Infographics
Videos
July 14, 2020
MULTIMEDIA

سندھ میں ایچ آئی وی کے مریض نفرت کا شکار

سندھ کے ضلع لاڑکانہ کے شہر رتو ڈیرو کے نواحی علاقے سے تعلق رکھنے والے 42 سالہ طارق کو مدافعتی نظام کو کمزور کرنے والے ہیومن امیونو ڈفیشنسی وائرس (ایچ آئی وی) کے درد کے بجائے ڈاکٹرز کی بے رحمی زیادہ ستاتی ہے۔

طارق 2018 سے پہلے بطور الیکٹریشن کام کرتے تھے۔ دو سال قبل ان میں ایچ آئی وی تشخیص ہوا اور کچھ ہی ماہ بعد کام کے دوران ان کا ایک بازو حادثاتی طور پر اپنی جگہ سے نکل گیا۔ اگرچہ طارق کا ایچ آئی وی کا علاج درست انداز میں آگے بڑھ رہا ہے تاہم ایچ آئی وی کے باعث کئی دیگر ڈاکٹروں نے انکے زخمی بازو کا علاج کرنے سے انکار کر دیا۔

طارق نے بتایا کہ انہیں واضح طور پرکہا گیا کہ ایچ آئی وی سے متاثر ہونے کی وجہ سے ان کا علاج کوئی نہیں کرے گا۔ بازو کے نکلنے کی وجہ سے انہیں سخت تکلیف کا سامنا ہے جب کہ کندھے کی ہڈی میں زخم بھی ہو چکا ہے لیکن ڈاکٹرز ان کا علاج کرنے سے انکار کرتے ہیں۔ طارق کے مطابق انہیں لاڑکانہ کے سرکاری ہسپتال کے ایک پروفیسر نے واضح طور پر بتایا کہ نہ صرف وہ بلکہ سندھ کا کوئی بھی ڈاکٹر انہیں ہاتھ نہیں لگائے گا اور ان کاعلاج نہیں کیا جائے گا کیونکہ انہیں ایچ آئی وی لاحق ہے اور ان کی سرجری کرنے سے ممکنہ طور پر ڈاکٹرز بھی اس مرض کا شکار ہوسکتے ہیں، اس لیے وہ جان لیں کہ ان کے بازو کا علاج ممکن نہیں۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ پروفیسر نے ان کا زخم دیکھنے کے بعد انہیں تجویز دی کہ وہ سرجیکل اور میڈیکل آلات خرید کر خود ہی اپنے زخم کو کٹ لگا کر اپنی پٹی کریں تو بہتر ہے۔

طارق کے مطابق بڑی کوششوں کے بعد ایک ڈاکٹر ان کا ایک بار ہی علاج کرنے پر تیار ہوئے، تاہم اس ڈاکٹر نے بھی کندھے کی ہڈی کے اوپر باہر جسم میں بن جانے والے زخم کا علاج کیا لیکن وہ بھی درست طریقے سے نہیں کیا اور جب وہ دوبارہ ان کے پاس گئے تو انہوں نے طارق کا علاج کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایک بار طارق کے ساتھ نیکی کی اب دوبارہ کبھی بھی نہیں کریں گے۔

 لاڑکانہ کے ڈاکٹرز سے مایوس ہونے کے بعد وہ کراچی کے جناح ہسپتال گئے تو وہاں بھی ان کا علاج نہیں کیا گیا اور انہیں وہاں صرف تاریخ پر تاریخ دی جاتی رہی مگر وہ وقت کبھی نہیں آیا جس پر ان کا علاج ہونا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ جناح ہسپتال کے بعد وہ انڈس ہسپتال بھی گئے مگر وہاں بھی ڈاکٹرز کا رویہ ایسا ہی رہا، جس کے بعد وہ سمجھ گئے کہ واقعی ان کا علاج کوئی نہیں کرے گا۔

طارق کے مطابق تقریبا دو سال سے ان کا بازو اپنی اصل جگہ سے نکلا ہوا ہے اور ان کے کندھے کی ہڈی میں زخم ہو چکا ہے۔ انہیں لگتا ہے کہ ہڈی کے اندر ناسور بن چکا ہے اور انہیں خدشہ ہے کہ وہ کینسر کا شکار نہ ہوجائیں۔

جہاں یہ بات کسی حد تک درست ہے کہ ایچ آئی وی مریض کی سرجری کے دوران مریض سے سرجیکل عملے یا سرجن میں انفیکشن منتقل ہونے کا خدشہ ہے، وہیں انفیکشن کے انتقال کے امکانات کو کم کرنے کیلئے حفاظتی تدابیر بھی موجود ہیں۔امریکن کالج آف سرجنز کی طرف سے 2004 میں جاری کردہ ایک بیان میں نہ صرف یہ کہا گیا کہ ہر سرجن پر کسی ایچ آئی وی مریض کی دیکھ بھال کیلئے وہی اخلاقی ذمہ داری عائد ہے جسے وہ  کسی دوسرے مریض کے سلسلے میں ملحوظ خاطر رکھتے ہیں بلکہ یہ بھی کہا کہ ایچ آئی وی سے  متاثرہ سرجن کو بھی مریضوں کے علاج کی اجازت ہونی چاہیے جب تک کہ وہ انفیکشن کنٹرول کرنے کے طریقہ کار اور جراثیم سے پاک کرنے والی موثر ترین رکاوٹوں کا استعمال کر رہے ہوں۔ یونیورسٹی آف کیلی فورنیا کے محققین کے مطابق انفیکشن کنٹرول تدابیر اور سرجیکل تکنیک میں تبدیلی کے ذریعے ایچ آئی وی مریض کی سرجری کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے یا پھر ڈاکٹروں کو متبادل علاج تجویز کرنا چاہیے جس میں سرجری کی نوبت نہ آئے۔

طارق نے اعتراف کیا کہ انہیں کبھی بھی ایچ آئی وی کے علاج کے دوران تضحیک کا سامنا نہیں کرنا پڑا البتہ انہیں کبھی کبھی دوائیاں لینے اور ٹیسٹ کروانے کے دوران طویل انتظار اور تاخیر سے گزرنا پڑتا ہے۔

طارق کو 2018 میں اس وقت ایچ آئی وی تشخیص ہوا تھا جب کئی ہفتوں تک وہ بخار کی حالت میں رہے تھے اور بخار کا علاج کروانے کے باوجود ان کی طبیعت میں بہتری نہیں آ رہی تھی۔

انہوں  نے بتایا کہ جہاں وہ الیکٹریشن کی ملازمت کرتے تھے اسی مالک کے بھائی ڈاکٹر تھے، جنہوں نے ان کا ایچ آئی وی کا ٹیسٹ کروایا جو مثبت آیا لیکن ڈاکٹر سمیت انہیں بھی پہلے ٹیسٹ پریقین نہیں آیا تو انہوں نے آغا خان ہسپتال سے دوبارہ ٹیسٹ کروایا جس میں ایک بار پھر ایچ آئی وی کی تصدیق ہوئی۔

ایچ آئی وی کی تشخیص کے بعد طارق کی دنیا ایک دم بدل گئی اور انہوں نے چند ہی ہفتوں میں موت کو قریب سے دیکھا۔ ڈاکٹر عمران عاربانی نے اپنے روابط استعمال کرتے ہوئے طارق کو لاڑکانہ ایچ آئی وی سینٹر بھیجا، جہاں ان کے ٹیسٹ کرکے انہیں دوائیاں دی گئیں اور انہیں پہلے ہی دن بتادیا گیا کہ ان کے دیگر اہل خانہ کے بھی ٹیسٹ ہوں گے۔

چند ہی دن بعد طارق کی بیوی سمیت ان کے تین بچوں کے ٹیسٹ بھی کیے گئے جن میں سے ان کی بیوی اور ایک تین سالہ بچی میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہوئی تو وہ مزید مایوس ہوگئے اور انہیں لگا کہ جیسے ان کی دنیا ہی ختم ہوگئی۔

طارق کا کہنا تھا کہ ایچ آئی وی کی تشخیص کے فوری بعد وہ رضاکارانہ طورپر باقی دو بچوں اور دیگر قریبی رشتہ داروں سے دور رہنے لگے تاکہ افراد خانہ متاثر نہ ہوں تاہم جلد ہی ڈاکٹرز  نے انہیں بتایا کہ کسی سے ملنا، ان کے ساتھ کھانا کھانا اور کسی سے ہاتھ ملانے سے مذکورہ بیماری دوسرے شخص کو نہیں لگتی۔

طارق اپنے گاوں میں پہلے شخص تھے جنہیں ایچ آئی وی تشخیص ہوا اور ابتدائی طور پربہت سارے لوگ انہیں جنسی تعلقات کے اعتبار سے غلط شخص سمجھ کر ان سے نفرت کرنے لگے لیکن چند ہی ماہ بعد ان کے پورے علاقے میں ایچ آئی وی پھیلنے کی خبریں آئیں تو لوگوں کی ذہن سے یہ فرسودہ خیال دور ہوا۔

سال 2019 کے آغاز میں ہی طارق کے گاوں میں سرکاری ٹیمیں ٹیسٹ کرنے آئیں اور پھر ان کے گاوں کے مزید افراد میں بھی ایچ آئی وی کی تشخیص ہوئی۔ اس وقت ان کے 100 گھروں پر مشتمل گاوں کے تقریبا دو درجن افراد ایچ آئی وی کے مریض ہیں اور ان میں کم عمر بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔

طارق نے بتایا کہ ان کے پورے گاوں کے ٹیسٹ نہیں ہوئے اور عین ممکن ہے کہ ٹیسٹ کے بعد مزید افراد سامنے آئیں۔

انہوں نے اس بات پر اطمینان ظاہر کیا کہ رتوڈیرو میں بھی ایچ آئی وی سینٹر کھولا گیا ہے جہاں ان کی رجسٹریشن ہے اور انہیں ہرماہ دوائیاں مفت ملتی ہیں جب کہ ہرتین یا چھ ماہ بعد ان کا ٹیسٹ کر کے ان کی دوائیاں بھی تبدیل کی جاتی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ مسلسل دوائیاں کھانے اور ٹیسٹ کروانے کی وجہ سے ان کی صحت کافی ٹھیک ہوگئی ہے۔ ان کے مطابق ان کے مقابلے ان کی اہلیہ اور ان کی بیٹی کی طبیعت زیادہ بہتر رہتی ہے اور ان سب کو مفت میں دوائیاں ملتی ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ایچ آئی وی کے باوجود وہ اور ان کی اہلیہ محفوظ طریقے سے ہم بستری بھی کرتےہیں جب کہ ان کی اہلیہ اپنے بچوں کے لیے غذائیں بھی تیار کرتی ہے۔

تاہم انہوں نے آبدیدہ ہوتے ہوئے کہا کہ انہیں اس بات کی تکلیف ہے کہ ان کے بازو کا علاج نہیں کیا جا رہا جس وجہ سے وہ شدید تکلیف میں مبتلا ہونے کے ساتھ ساتھ کسی بھی کام کرنے سے قاصر ہیں۔ انہوں نے اعلیٰ حکام سے درخواست کی کہ ایچ آئی وی مریضوں کے ساتھ ڈاکٹرز کے ایسے رویے کا نوٹس لیا جائے اور ایسا کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔

طارق نے سوال کیا کہ اگرکوئی بھی ایچ آئی وی مریض روڈ حادثے کا شکار ہوجائے یا اسے کوئی دوسری چوٹ لگے جس سے اس کا خون نکلے تو کیا ہوگا؟ کیا وہ یوں ہی تڑپ تڑپ کر مرجائیں گے؟

انہوں نے افسردہ لہجے میں کہا کہ انہیں لگتا ہے کہ ایسے افراد ایچ آئی وی سے نہیں بلکہ دوسرے مسائل اور ڈاکٹرز و سماج کی بے رحمی سے مرجائیں گے۔

طارق کی باتوں سے سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام کے ڈپٹی مینیجر  ڈاکٹر ثاقب شیخ بھی اتفاق کرتے ہیں اور انہوں نے اعتراف کیا کہ انہیں بھی کچھ ایسے کیسز کے متعلق آگاہی ملی اور انہوں  نے ایسے معاملات میں غفلت کرنے والے ڈاکٹرز کی اعلیٰ حکام سے شکایت کرنے سمیت ان کے خلاف سخت ایکشن لینے کا مطالبہ بھی کیا۔

ڈاکٹر ثاقب شیخ نے بتایا کہ بعض مرتبہ اسپتال عملے کی جانب سے ایچ آئی وی کی مریض حاملہ خاتون کی ڈیلیوری کرانے سے بھی انکار کیا جاتا ہے جب کہ کچھ ایسے واقعات بھی رپورٹ ہوئے جن میں ایچ آئی وی مریضوں کی سرجری ہونی تھی مگر ڈاکٹرز نے خوف کی وجہ سے انکار کردیا اور دلیل دی کہ ایسے مریضوں کا آپریشن کرنے سے ان کے آلات وائرس سے متاثر ہوسکتے ہیں اور پھر وہی آلات دوسرے مریضوں پر استعمال کرنے سے وائرس پھیلنے کا خدشہ ہے۔

ایڈز کنٹرول پروگرام کے ڈپٹی مینیجر کے مطابق ان کی ٹیم نے انتہائی قابل طبی ماہرین کے ساتھ مل کر ایسے خدشات ظاہر کرنے والے ڈاکٹرز کو سمجھایا اور انہیں کہا گیا کہ اگر وہ ایسا سمجھتے ہیں تو وہ اپنے آلات کو متعدد بار (اسٹریلائیز) کریں اور اگر وہ پھر بھی مطمئن نہ ہوں تو وہ ایسے مریضوں کے لیے الگ آلات رکھیں۔

انہوں نے ڈاکٹرز کے ایسے رویے کو کم علمی کا نتیجہ قرار دیا اور ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ڈاکٹرز کی طرح عام لوگ بھی ایسا خیال رکھتے ہیں لیکن درحقیقت یہ باتیں فرسودہ ہیں اوریہ سب کچھ لوگوں کی کم علمی اور ایچ آئی وی مریضوں سے لوگوں کی نفرت کا اظہار ہے۔

ڈاکٹر ثاقب شیخ کے مطابق پاکستان میں ایچ آئی وی اور ایڈز میں فرق کرنے کے حوالے سے بھی لوگوں میں شعور بیدار کرنے کی سخت ضرورت ہے اورعین ممکن ہے کہ اس میں کئی سال لگ جائیں۔

وہ مانتے ہیں کہ گزشتہ کچھ عرصے میں لوگوں میں تھوڑا بہت شعور آیا ہے اور اب لوگوں کوعلم ہے کہ ایچ آئی وی دراصل ایڈز نہیں ہے، تاہم پھر بھی اس حوالے سے کام کرنے کی ضرورت ہےاور عام لوگوں سمیت میڈیکل عملے اورڈاکٹرز کو بھی یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ ایچ آئی وی مریض کا علاج کرنے سے وہ اس مرض کا شکار نہیں ہوں گے۔

ایڈز کنٹرول پروگرام کے عہدیدار کا کہنا تھا کہ جہاں اب زیادہ لوگوں کو ایڈز اور ایچ آئی وی میں فرق معلوم ہے وہیں اب لوگوں میں یہ شعور اجاگر کرنے کی سخت ضرورت ہے کہ ایچ آئی وی کے مریض سے ملنے، ان کے ساتھ کھانا کھانے، بات کرنے اور یہاں تک کہ ان کے ساتھ ہاتھ ملانے سے بھی یہ وائرس دوسرے شخص میں منتقل نہیں ہوتا۔

 

ایچ آئی وی دراصل ایڈز نہیں

ڈاکٹر ثاقب شیخ نے بتایا کہ اگر پاکستان کے عوام صرف انٹرنیٹ کا مثبت استعمال کریں تو بھی وہ جان جائیں گے کہ ایچ آئی وی دراصل ایڈز نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) اور اقوام متحدہ (یو این) سمیت کئی عالمی اداروں  نے ایچ آئی وی اور ایڈز میں واضح فرق سے متعلق مواد کو انٹرنیٹ میں پھیلا دیا ہے اور پاکستانی اداروں نے بھی اس حوالے سے کافی مواد آن لائن شائع کر رکھا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایچ آئی وی کے وائرس کے مریضوں کے حوالے سے جہاں عام لوگوں میں غلط خیالات پائے جاتے ہیں، وہیں ان کے حوالے سے میڈیا میں بھی منفی رپورٹنگ ہوتی ہے اور متاثرہ مریضوں کے نام، گھر کے پتے اور یہاں تک کے چہرے بھی دکھائے جاتے ہیں جس وجہ سے دوسرے لوگ ایسے مریضوں سے کنارہ کشی اختیار کرلیتے ہیں۔

ایڈزکنٹرول پروگرام کے عہدیدارکا کہنا تھا کہ پہلے تو لوگوں کو یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہیے کہ ایچ آئی وی بھی ایسا مرض ہے جیسے کسی کو شگر یا بلڈ پریشر ہو اور وہ باقی ساری زندگی دوائیوں کے ساتھ گزار دے۔

ان کے مطابق ایچ آئی وی وائرس کے مریض کو بھی یہ سمجھ لینا چاہیے کہ وہ ایڈز کا مریض نہیں لیکن اگر وہ وائرس کو روکنے کے لیے علاج اور مزید ٹیسٹ نہیں کروائے گا تو عین ممکن ہے کہ وہ ایڈز کا مریض بن جائے۔

ڈاکٹر ثاقب شیخ کہتے ہیں کہ عین ممکن ہے کہ بروقت تشخیص اور علاج کے بعد ایچ آئی وی وائرس کا مریض باقی پوری زندگی ایڈز کا شکار بن سکے اور وہ ساری زندگی وائرس کے مرض سے لڑتے لڑتے گزار دے۔ انہوں نے بتایا کہ دراصل ایچ آئی وی وائرس کو ختم کرنا تقریبا ناممکن ہے تاہم دوائیوں کے ذریعے اسے کنٹرول میں رکھا جا سکتا ہے اور یہ سلسلہ متاثرہ شخص کی تمام زندگی تک چل سکتا ہے۔

 اگر ایچ آئی وی کے متاثرہ شخص نے بروقت ٹیسٹ کروا کر علاج شروع نہ کروایا تو عین ممکن ہے کہ اس کا مدافعتی نظام کافی کمزور پڑ جائے اور اس کے ایڈز میں مبتلا ہونے کے امکانات بھی بڑھ جائیں، ڈاکٹر ثاقب شیخ نے مزید وضاحت کی۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ سندھ میں ایچ آئی وی کے مریضوں کے ایڈز کے شکار ہونے کی رفتار دیگر ممالک سے کم ہے اور یہی وجہ ہے کہ سندھ میں 26 سال کے دوران اب تک صرف 239 ایڈز کے مریض ہیں۔

یہ اعداد و شمار 1995 میں پاکستان سمیت سندھ میں ایڈز کنٹرول پروگرام شروع ہونے کے بعد سے اکٹھے کیے جا رہےہیں۔

ایچ آئی وی کا مریض محفوظ ’سیکس‘ کر سکتا ہے

ایڈز کنٹرول پروگرام کے ڈپٹی مینیجر کا کہنا تھا کہ عام طور پر لوگوں میں ایچ آئی وی کے مریضوں کے حوالے سے غلط تصورات پائے جاتے ہیں اور لوگ سمجھتے ہیں کہ متاثرہ شخص سے ملنے، بات کرنے اور ہاتھ ملانے سے وہ بھی وائرس کا شکار ہوجائیں گے لیکن حقیقت میں ایسا نہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ ایچ آئی وی کا مرض اگرچہ غیر محفوظ طریقے سے جنسی تعلقات استوار کرنے سے ایک سے دوسرے شخص میں منتقل ہو سکتا ہے تاہم اگر جنسی تعلقات کے لیے محفوظ راستے اپنائے جائیں تو یہ وائرس دوسرے شخص میں منتقل نہیں ہوتا۔

ڈاکٹر ثاقب شیخ نے بتایا کہ اگر شوہر ایچ آئی وی کا مریض ہو یا بیوی اس وائرس میں مبتلا ہو تو وہ دونوں محفوظ طریقے سے جسمانی تعلقات استوار کر سکتے ہیں تاہم بے احتیاطی دونوں کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ اگرکوئی ماں ایچ آئی وی میں مبتلا ہے تو ٹیسٹ اور دوائیوں کی مدد سے وہ اس قابل بن سکتی ہے کہ وہ اپنے نوزائیدہ بچے کو دودھ پلا سکے۔

ڈاکٹر ثاقب کے مطابق اگرایچ آئی وی وائرس میں مبتلا شخص کے ساتھ کھانا کھایا جائے یا اس سے ہاتھ ملایا جائے تو بھی وائرس دوسرے شخص میں منتقل نہیں ہوتا اوراس حوالے سے لوگوں میں غلط خیالات پائے جاتے ہیں۔

ڈاکٹر ثاقب شیخ کی باتوں سے وبائی امراض کی ماہر اور انڈس اسپتال میں انفیکشس ڈیزیز ڈیپارٹمنٹ کی سربراہ ڈاکٹر نسیم صلاح الدین بھی اتفاق کرتی ہیں۔ ڈاکٹر نسیم کا کہنا ہے کہ اگر نوزائیدہ بچے کی ماں ایچ آئی وی کی مریض ہیں تو دوائیوں اور ٹیسٹ کی مدد سے اپنا وائرل لوڈ (ایچ آئی وی وائرس کی مقدار) کو کنٹرول کر کے وہ بچے کو اپنا دودھ پلانے کے قابل بن سکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ٹیسٹ کے ذریعے وائرل لوڈ  جاننے کے بعد پتہ چلتا ہے کہ کس مریض کا اعصابی نظام کتنا کمزور یا طاقتور ہے اور پھر اسے اسی حساب سے دوائیاں دی جاتی ہیں اور دوائیاں دینے کے بعد نوزائیدہ بچے کی ماں اس قابل بن سکتی ہے کہ وہ بچے کو اپنا دودھ پلا سکے۔

ڈاکٹر نسیم صلاح الدین کے مطابق یہ بھی ممکن ہے کہ ایچ آئی وی کی مریض خاتون کو دوران حمل ایسی دوائیاں دی جائیں کہ ان کے پیٹ میں پلنے والا بچہ ماں کے وائرس سے محفوظ رہ سکے اور وہ وائرس کے بغیر ہی پیدا ہو۔

لیکن ساتھ ہی انہوں نےکہا کہ بعض اوقات ایسا ممکن نہیں ہوتا کیونکہ متاثرہ خاتون کا مرض بہت زیادہ ہوتا ہے اور دوائیاں بھی بعض اوقات اپنا اثر دکھاتے دکھاتے وقت لگا دیتی ہیں۔

ڈاکٹر نسیم صلاح الدین کے مطابق ایچ آئی وی کا مریض محفوظ طریقے سے دوسرے شخص کے ساتھ جنسی تعلقات بھی استوار کرسکتا ہے جب کہ وہ کسی عام صحت مند شخص کے ساتھ کھانا بھی کھا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایچ آئی وی کے ایک سے دوسرے شخص میں منتقل ہونے کے تین ذرائع جسمانی تعلقات، انتقال خون اور بچے کی پیدائش ہی ہیں تاہم احتیاط سے ان ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے بھی دوسرے شخص کو محفوظ رکھا جاسکتا ہے۔

ڈاکٹر نسیم صلاح الدین کا کہنا تھاکہ اگر سیکس کے دوران کونڈم استعمال کیا جائے اور انتقال خون کے دوران ٹیسٹ کرنے سمیت نئی سرنج استعمال کی جائیں اور خاتون کے ہاں حمل ٹھہرنے کے وقت سے ہی ان کے بار بار ٹیسٹ کرکے انہیں ٹیسٹ کے مطابق دوائیاں دی جائیں تو نتائج بہتر ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بھی ایچ آئی وی مریضوں کا علاج دنیا کے دیگر ممالک کی طرح ہی ہوتا ہے اور اس کا علاج بھی دیگر بیماریوں کی طرح عالمی معیار  کے مطابق ہوتا ہے۔

غیر محفوظ ’سیکس‘ اور ’نشہ‘ ایچ آئی وی کے لیے سب سے بڑا خطرہ

ایڈز کنٹرول پروگرام کے ڈپٹی مینیجر ثاقب شیخ کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر ایچ آئی وی سے تحفظ کا پروگرام عام ہو چکا ہے تاہم پاکستان میں ابھی تک اس پروگرام کو عام نہیں کیا جا سکا اور چند اہم شعبہ جات پر توجہ دینے سے اسے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ پروگرام کوعام کرنے سے مراد یہ ہے کہ عالمی سطح پر کئی ممالک میں اب ایچ آئی وی کو بھی دیگر عام بیماریوں کی طرح سمجھا جاتا ہے اوراس کے ٹیسٹ کروائے جاتے ہیں مگر پاکستان میں اس وائرس کے حوالے سے کئی منفی مفروضے پائے جاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ایڈز کنٹرول پروگرام کی زیادہ توجہ سیکس ورکرز، نشہ کرنے والے افراد، مخنث افراد، قیدی،دیہی علاقے اور زیادہ تر ہسپتالوں کے چکر کاٹنے والے افراد پر مرکوز ہے چونکہ یہی افراد زیادہ خطرے میں ہوتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ سندھ میں سب سے زیادہ افراد ’سیکس اور انجکشن کے ذریعے نشہ‘ کرنے کی وجہ سے ایچ آئی وی کا شکار بنتے ہیں اور مذکورہ دونوں وجوہات کی وجہ سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد تقریبا یکساں ہے۔

ڈاکٹر ثاقب کے مطابق سندھ میں خواتین سیکس ورکرز کے مقابلے میں مرد سیکس ورکرز ایچ آئی وی سے زیادہ متاثرہورہے ہیں۔ مرد سیکس ورکرز سے مراد ہم جنس پرست نہیں بلکہ پیسوں کے عوض خواتین سے جنسی تعلقات استوار کرنے والے افراد ہیں۔

 انجکشن کے ذریعے نشہ کرنے والے افراد، جیل کے قیدی اورخواجہ سرا بھی ایچ آئی وی کے نشانے پر رہتے ہیں، ڈاکٹر ثاقب نے بتایا۔

ان کے مطابق بظاہر جیل کے قیدی اورخواجہ سرا بھی غیرمحفوظ جسمانی تعلقات اور نشے کی وجہ سے ایچ آئی وی کا شکار بنتے ہیں اور ایسے افراد کو محفوظ سیکس کرنے کی سہولیات بھی فراہم نہیں کی جا سکتیں۔ انہوں نے جیل کے قیدیوں، مخنث افراد اور سیکس ورکرز کے حوالے سے دنیا کے دیگر ممالک میں اٹھائے جانے والے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ایسے افراد کے لیے محفوظ جنسی تعلقات کے اقدامات اٹھانا فی الحال ناممکن ہے کیوں کہ اس سے جہاں ہمارے ہاں مذہبی مسائل سامنے آئیں گے وہیں کچھ قانونی پیچیدگیاں بھی ہیں، جس وجہ سے ملک میں کسی کو بھی محفوظ سیکس کے مواقع فراہم نہیں کیے جا سکتے۔

سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام کے ساتھ نشہ کرنے والے افراد کو ایچ آئی وی سے بچانے پر کام کرنے والی سماجی تنظیم نئی زندگی کے ضلعی کوآرڈینیشن مینیجر عاطف چوہدری نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ پاکستان میں غیر محفوظ سیکس اور انجکشن کے ذریعے نشہ ایچ آئی وی کے سب سے بڑے اسباب ہیں۔

نئی زندگی تنظیم پاکستان ایڈز کنٹرول پروگرام کے ساتھ ملک بھر میں کام کر رہی ہے۔ یہ تنظیم کراچی اور لاڑکانہ کے تمام اضلاع سمیت حیدرآباد اور ٹھٹہ کے علاوہ مجموعی طور پر سندھ کے 14 اضلاع میں متحرک ہے اور اس کے کارکنان صوبے بھر میں انجکشن کے ذریعے نشہ کرنے والے افراد کو نشہ کرنے کے لیے ہر بار نئی سرنج فراہم کرتے ہیں۔

عاطف چوہدری کا کہنا تھا کہ چونکہ لاکھوں افراد کو اچانک نشے سے دور نہیں کیا جاسکتا، اس لیے ابتدائی طور پر انہیں نئے انجکشن فراہم کرکے انہیں بیماریوں سے دور رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے اور بعد ازاں ان افراد کو تنظیم کے سینٹر منتقل کر کے ان کا علاج کیا جاتا ہے اور انہیں نشے سے دور لے جانے میں کئی سال لگتے ہیں۔

عاطف چوہدری کے مطابق ایچ آئی وی کے حوالے سے ملک بھر میں پڑھے لکھے یا عام افراد میں تاحال کچھ غلط تصور پائے جاتے ہیں اورلوگ خیال کرتےہیں کہ ایسے مریضوں کے ساتھ ہاتھ ملانے اور ان کے ساتھ گفتگو کرنے سے بھی وہ ایچ آئی وی کے شکار ہوجائیں گے۔

انہوں نے اپنی تنظیم کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ان کے سینٹرز میں ان کا عملہ مریضوں کے ساتھ نہ صرف گھل مل جاتا ہے بلکہ عملہ ان کے ساتھ کھانا بھی کھاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اب تک پاکستان میں عام آبادی میں ایچ آئی وی کے حوالے سے کام شروع نہیں ہوا اور اب تک صرف کچھ اہم شعبوں میں ہی کام کیا جا رہا ہے۔ سماجی تنظیم کے رہنما کا کہنا تھا کہ حکومت سمیت دیگر سماجی تنظیموں اور عام افراد کو بھی ایچ آئی وی مریضوں کے لیے کام کرنے کی ضرورت ہے اور ایسے مریضوں کے لیے سماج کو بہتر بنانے پر کام کیا جانا چاہیے۔

احتیاط علاج سے بہتر ہے

  ڈاکٹر ثاقب شیخ نے ایچ آئی وی کے حوالے سے پاکستانی سماج میں پائے جانے والے فرسودہ خیالات پربات کرتے ہوئے لاڑکانہ اور رتوڈیرو میں بیک وقت سامنے آنے والے کیسز کا ذکر کیا اور کہا کہ ابتدائی طور پر وہاں بہت سارے ایچ آئی وی کیسز سامنے آنے سے مسائل پیدا ہوگئے۔

انہوں نے یاد کرتے ہوئے بتایا کہ ان ہی دنوں میں میڈیا کی غلط رپورٹنگ، سوشل میڈیا پر منفی باتوں کے پھیلاؤ سمیت عام افراد میں پائے جانے والے غلط تصورات کی وجہ سے وہاں سماجی مسائل نے جنم لیا اور کئی مرد حضرات نے اپنی خواتین کی کردار کشی کرنا شروع کردی۔

ڈاکٹر ثاقب نے بتایا کہ لاڑکانہ اور رتوڈیرو میں ابتدائی طور پر مرد حضرات ٹیسٹ کروانے سے گریز کر رہے تھے اس لیے شروع میں زیادہ تر خواتین کے کیسز سامنے آئے تاہم بعد ازاں جب وہاں مردوں کو سمجھایا گیا کہ ایچ آئی وی صرف سیکس سے نہیں ہوتا تو انہوں نے ٹیسٹ کروانے کی حامی بھری، جس کے بعد مرد حضرات کی بہت بڑی تعداد میں ایچ آئی وی تشخیص ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ لاڑکانہ اور رتوڈیرو سمیت سندھ کے دیگر دیہی علاقوں میں سامنے آنے والے ایچ آئی وی کیسز زیادہ ترسیکس سے نہیں بلکہ دیگر عام لاپرواہیوں کی وجہ سے ہوئے۔

انہوں نے بتایا کہ ایسے ثبوت بھی ملے کہ دیہی علاقوں میں انتہائی کم فیس پر لوگوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹرز  نے 20 روپے کا ایک ہی انجکشن متعدد مریضوں پراستعمال کیا جب کہ نائی  نے بھی ایک ہی بلیڈ متعدد افراد پر استعمال کیا۔

ایڈز کنٹرول عہدیدار نے احتیاط پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سیاستدانوں، ایوانوں اور حکومتی عہدیداروں خاص طور پر پولیس کو بھی اپنا رویہ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ بعض مرتبہ جب کسی مخنث شخص، جیل کے قیدی یا عام شخص کے پاس سے کونڈم ملتا ہے تو اسے مذہب اور قانون کے نام پر ہراساں کرکے اس کے خلاف بے راہروی پھیلانے کے الزام کے تحت کارروائی کی جاتی ہے جس وجہ سے ایسے افراد دوبارہ کونڈم استعمال نہیں کرتے۔

ساتھ ہی انہوں نے میڈیا کی جانب سے بیماریوں کے حوالے سے خبروں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ ایڈز جیسی بیماریوں کی خبروں کو ریٹنگ کے لیے استعمال کرنے سے عوام میں خوف پھیلتا ہے اور عام افراد بھی سمجھنے لگتے ہیں کہ عنقریب وہ بھی بیماری کا شکار ہوجائیں گے۔

میڈیا میں ایڈز کی خبریں آنے اور انہیں بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کے حوالے سے ضلع تھرپارکر کے نوجوان آکاش ہمیرانی کا کہنا تھا کہ انہیں بھی میڈیا میں خبریں چلنے کے بعد خیال آیا کہ انہیں ایچ آئی وی کا ٹیسٹ کروانا چاہیے۔

آکاش ہمیرانی سندھ یونیورسٹی کے شعبہ سماجیات کے طالب علم ہیں اور انہوں نے 2019 میں اس وقت ایچ آئی وی کا ٹیسٹ کروایا جب لاڑکانہ سے درجنوں افراد کے بیک وقت ایچ آئی وی میں مبتلا ہونے کی خبریں سامنے آئیں اور سندھ میں ہرطرف ایک خوف پھیل گیا۔

آکاش نے بتایا کہ اگرچہ انہیں پہلے بھی بخار ہوتا تھا مگر انہیں کبھی بھی ایچ آئی وی کا ٹیسٹ کروانے کا خیال نہیں آیا تھا مگر میڈیا میں بار بار خبریں چلنے کے بعد وہ ٹیسٹ کروانے پر تیار ہوئے اور انہوں نے میڈیا میں خبروں کو اچھا قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر میڈیا میں اس طرح سندھ میں ایڈز کی کوریج نہ ہوتی تو وہ کبھی بھی ایچ آئی وی کا ٹیسٹ نہیں کرواتے۔

آکاش ہمیرانی کا ٹیسٹ منفی آیا اور اسے بھی ٹیسٹ سے قبل 90 فیصد یقین تھا کہ اسے ایچ آئی وی نہیں ہوسکتا کیوں کہ انہوں نے کبھی بھی کوئی نشہ کرنے سمیت کسی کے ساتھ جنسی تعلقات استوار نہیں کیے تھے اور نہ ہی وہ ہر طرح کے شخص سے احتیاطی تدابیر اختیار کیے بغیر ملاقات کرتے تھے۔

آکاش کی طرح کراچی میں رہنے والے شفیق سومرو  نے بھی رضاکارانہ طور پر ایچ آئی وی کا ٹیسٹ کروایا مگر انہوں نے سندھ میں ایچ آئی وی کے تیزی سے پھیلنے اور اس حوالے سے میڈیا میں خبریں شائع ہونے سے قبل ہی ٹیسٹ کروایا تھا۔

شفیق سومرو کے مطابق انہوں نے 2016 میں ایچ آئی وی کا پہلی اور اب تک آخری بار ٹیسٹ کروایا تھا اور اس وقت انہیں اس مرض کے حوالے سے اتنا علم نہیں تھا اور وہ چار سال قبل ایچ آئی وی کو ہیپاٹائٹس کی خطرناک قسم سمجھتے تھے جب کہ ان کا خیال تھا کہ ایڈز ایک الگ اور انتہائی مہلک بیماری ہے۔

پبلک پالیسی میں ایم فل کے طالب علم شفیق سومرو  نے اعتراف کیا کہ انہوں نے 2019 میں سندھ میں ایچ آئی وی کے بہت سارے کیسز میڈیا میں رپورٹ ہونے کے بعد ایچ آئی وی سے متعلق عالمی ادارہ صحت اور حکومت پاکستان کے مواد کا مطالعہ کرکے آگاہی حاصل کی کہ ایچ آئی وی دراصل ہیپاٹائٹس کی خطرناک قسم نہیں بلکہ ایڈز کا آغاز ہے۔

آکاش کی طرح شفیق بھی ایچ آئی وی کے حوالے سے میڈیا میں رپورٹنگ کو درست مانتے ہیں تاہم وہ ڈاکٹر ثاقب شیخ سے بھی اتفاق کرتے ہیں کہ میڈیا کو ایچ آئی وی مریضوں کے نام، گھر کے پتے اور چہرے نہیں دکھانے چاہیے۔

سندھ میں ایڈز اور ایچ آئی وی کے کتنے مریض ہیں؟

سال 2019 کے وسط میں پاکستان کے جنوبی صوبہ سندھ کے شمال میں واقع ضلع لاڑکانہ سے ایچ آئی وی اور ایڈز سے متعلق آنے والی خبروں نے نہ صرف صوبے بھر میں بلکہ پورے ملک میں خوف پھیلا دیا تھا۔

لاڑکانہ کے نواحی شہر رتوڈیرو اور نوڈیرو سے آنے والی رپورٹس میں بتایا جا رہا تھا کہ علاقے کے متعدد گاؤں کے کئی کئی خاندان بیک وقت ایچ آئی وی اور ایڈز میں مبتلا ہوگئے۔

خبروں نے لوگوں کو اس وقت مزید حیران کردیا جب یہ باتیں سامنے آئیں کہ ایچ آئی وی اور ایڈز میں مبتلا زیادہ تر افراد کم عمر اور نوزائیدہ بچے ہیں۔

جون 2019 سے اکتوبر 2019 تک لاڑکانہ ڈویژن کے دیگر اضلاع میں بھی ایچ آئی وی کی اسکریننگ شروع کی گئی تو دیگر اضلاع میں بھی کئی افراد میں مذکورہ وائرس کی تشخیص ہوئی۔

گزشتہ دو سے ڈھائی سال کے دوران صوبے سندھ میں ایچ آئی وی کے مریضوں کی تعداد میں کم سے کم 5000 افراد کا اضافہ ہوا اور 31 دسمبر 2019 تک مریضوں کی تعداد بڑھ کر 19082 ہوگئی۔

سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام کے اعداد وشمارکے مطابق اگرچہ سندھ میں اندازاً ایچ آئی وی اور ایڈز کے مریضوں کی تعداد 57000 کے قریب ہے تاہم حکومت صرف 19082 افراد کو ہی رجسٹر کر سکی ہے۔

سال 2019 کے آخر تک رجسٹر ہونے والے مریضوں میں سے صرف 239 مریض ہی ایسے تھے جن کا ایچ آئی وی وائرس ایڈزمیں تبدیل ہوچکا تھا جبکہ باقی 18843 لوگ ایچ آئی وی کا شکار ہیں۔

اگرچہ گزشتہ سال یہ خبریں وائرل رہیں کہ سندھ کا لاڑکانہ ڈویژن صوبے کا وہ واحد ڈویژن ہے جہاں ایچ آئی وی اور ایڈز کے سب سے زیادہ مریض ہیں تاہم سرکاری اعداد و شمارکے مطابق سب سے زیادہ مریض کراچی ڈویژن میں ہیں جہاں مریضوں کی تعداد 12393 ہے اور ان میں سے صرف 78 مریض ایڈز کے ہیں۔

مریضوں کی زیادہ تعداد میں لاڑکانہ ڈویژن دوسرے نمبرپر ہے جہاں مریضوں کی مجموعی تعداد 3544 ہے۔

سندھ ایڈزکنٹرول کے مطابق گزشتہ 17 سال میں صوبے میں سب سے زیادہ 3 ہزار 424 مریضوں کی نشاندہی 2019 میں ہوئی جب کہ اس سے قبل 2018 میں 2129 اور 2017 میں 2065 مریضوں کی تشخیص ہوئی تھی۔

سندھ میں ایچ آئی وی اورایڈز کے مریضوں کی تعداد میں ہر گزرتے سال اضافہ دیکھنے میں آیا اور 2013 کے بعد صوبے میں تیزی سے مریضوں کی تشخیص ہوئی اور آخری تین سال میں صوبے میں 6000 کے قریب نئے مریضوں کا اضافہ ہوا۔

گزشتہ سال نئے تشخیص کیے گئے 3424 مریضوں میں سے 2390 مرد اور 954 خواتین جب کہ 80 خواجہ سرا تھے۔

سال 2019 میں 661 بچے جب کہ 376 بچیوں میں بھی ایچ آئی وی کی تشخیص ہوئی جن میں سے دو بچوں میں ایڈز پایا گیا اور اسی عرصے کے دوران 203 مرد اور 33 خواتین میں بھی ایڈز کی تشخیص ہوئی۔

اگرچہ صوبے میں سب سے زیادہ ایچ آئی وی کے مریض کراچی ڈویژن میں ہیں تاہم اگر ضلع کی بات کی جائے تو لاڑکانہ میں سب سے زیادہ یعنی 2906 مریض ہیں، اضلاع میں دوسرے نمبر پر حیدرآباد ہے جہاں 718 مریض ہیں۔

قمبر، شہدادکوٹ ضلع 253 مریضوں کے ساتھ تیسرے اور شکارپور 249 مریضوں کے ساتھ چوتھے جبکہ 202 مریضوں کے ساتھ سکھر پانچویں نمبر پر ہے۔

سندھ کے پسماندہ ترین ضلع تھرپاکر میں سب سے کم یعنی تین ایچ آئی وی مریض ہیں، کم مریضوں میں دوسرے نمبر پرعمرکوٹ ہے جہاں مریضوں کی تعداد 5 ہے۔

سندھ میں موجود مریضوں میں ملک کے دوسرے صوبوں کے مریضوں سمیت بیرون ممالک کے مریض بھی شامل ہیں۔

سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام کے مطابق سندھ میں 72 غیرملکی مریضوں سمیت بلوچستان کے 161، پنجاب کے 86، خیبرپختونخواہ کے 73، آزاد جموں و کشمیر کے 4، گلگت بلستان کا ایک اور فاٹا کے پانچ ایچ آئی وی مریض بھی شامل ہیں۔

سندھ میں رجسٹرڈ مریضوں میں سے 414 مریض ایسے ہیں جن سے متعلق کوئی ڈیٹا موجود نہیں ہے کہ ان کا تعلق کہاں سے ہے۔

ایڈز کنٹرول پروگرام کے مطابق سندھ میں تقریبا گزشتہ دو دہائیوں کے دوران ایڈز سے 472 ہلاکتیں ہوئیں اور اس وقت ایچ آئی وی کے رجسٹرڈ 19 ہزار سے زائد مریضوں میں سے صرف 5771 مریضوں کو علاج کی سہولت فراہم کی جا رہی ہیں۔

مریضوں کو علاج کی سہولیات فراہم کرنے کے اہداف کے حوالے سے ایڈز کنٹرول پروگرام کے ڈپٹی مینیجر ثاقب شیخ نے بتایا کہ پروگرام کا ہدف عالمی سطح کا ہے تاہم اس ہدف کوحاصل کرنے کے لیے بہت فنڈز کی ضرورت ہے جو فی الحال کہیں سے بھی میسر نہیں۔

انہوں نے وضاحت کی کہ سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام کا ہدف 90 فیصد آبادی کی اسکریننگ کرنا اورپھر اسکریننگ کے بعد وائرس میں مبتلا افراد میں سے 90 فیصد کے ایڈوانس ٹیسٹ کرنا اور پھر ایڈوانس ٹیسٹ والے افراد میں سے 90 فیصد افراد کا علاج کرنا اور آخر میں زیرعلاج افراد کے مرض میں 90 فیصد کمی لانا ہے تاہم اس ٹارگٹ کو حاصل کرنے کے لیے ایڈز کنٹرول پروگرام کو نہ صرف مالی مدد بلکہ افرادی قوت کی بھی ضرورت ہے جو فی الحال انہیں میسر نہیں لیکن اس باوجود ایڈز کنٹرول پروگرام موثر انداز میں آگے بڑھ رہا ہے۔

سندھ سمیت پاکستان میں ایچ آئی وی اورایڈز کے کنٹرول سے متعلق اٹھائے جانے والے انتظامات عالمی سطح پراٹھائے جانے والے انتظامات سے کس قدر کم ہیں کہ سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ خوشی کی بات ہے کہ پاکستان میں ایڈز کنٹرول کے انتظامات کئی ممالک سے بہتر ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کے ایچ آئی وی اورایڈز کنٹرول پروگرام پر مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیوں کہ ہم درست سمت سفر کررہے ہیں تاہم کچھ مشکلات ضرور ہیں مگر پاکستان کئی ممالک سے بہتر پوزیشن میں ہے۔

رجسٹرڈ مریض اتنے کم کیوں؟

پاکستان ایڈز کنٹرول پروگرام کے مطابق ملک بھرمیں اندازاً ایچ آئی وی اور ایڈز کے 165000 مریض ہیں جبکہ سندھ میں ہی صرف 57000 مریض ہیں۔

تاہم سندھ میں رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد صرف 19000 تک ہے۔

رجسٹرڈ اور غیر رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد میں فرق کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں سماجی تنظیم نئی زندگی کے عہدیدار عاطف چوہدری کا کہنا تھا کہ اندازے کے مطابق لگائی گئی تعداد بھی حکومت اور عالمی ادارہ صحت کی جانب سے کیے گئے سرویز کے بعد ہی بتائی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان نے متعدد علاقوں میں جاکر بیک وقت ہزاروں افراد کے ٹیسٹ کیے اور ان ٹیسٹ کے نتائج حکومت نے عالمی ادارہ صحت اور دیگر تنظیموں کے ساتھ شیئر کیے جس کے بعد حکومت اور تمام تنظیموں نے انٹرنیشنل ہیلتھ معیار کے مطابق شرح نکال کرپاکستان میں مریضوں کی محتاط تعداد کا اندازہ لگایا۔

انہوں نے کہا کہ مذکورہ 165000 مریضوں کی تعداد بھی درست شرح سے کم ہی رکھی گئی ہوگی اور اگر آبادی کے حوالے سے اصل شرح نکالی جائے تو ان کے خیال کے مطابق پاکستان میں اندازے کے مطابق ایچ آئی وی کے مریضوں کی تعداد مذکورہ تعداد سے زیادہ ہوگی۔

اسی حوالے سے ڈاکٹر نسیم صلاح الدین کا کہنا تھا کہ یقیناً اندازے کے مطابق بتائی گئی تعداد درست نہیں مگر اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ملک میں ایچ آئی وی کے مریض رجسٹرڈ مریضوں سے بہت ہی زیادہ ہیں۔

انہوں نے ایک سوال کے جواب میں واضح کیا کہ یقینا غیر رجسٹرڈ مریض دیگر عام افراد کے لیے بھی خطرہ ہیں اور یہ کسی کو معلوم نہیں کہ دیگر مریض کون اور کہاں ہیں اور وہ کتنے افراد کے لیے خطرہ ہیں۔

ڈاکٹر نسیم صلاح الدین کا کہنا تھا کہ پاکستان میں موجود ایچ آئی وی کے ہر مریض کو رجسٹر کرنا ابھی یا کئی سال تک حکومت کے لیے ممکن نہیں ہے اس لیے اس مسئلے کا حل عوام کی جانب سے رضاکارانہ طور پر احتیاط اور اپنے ٹیسٹ کروانا ہی ہے۔

سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام کے ڈپٹی مینیجر کا کہنا تھا کہ فوری طور پرہرمریض تک پہنچنا حکومت کے بس کی بات نہیں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ابھی پاکستان میں ایچ آئی وی کنٹرول پروگرام اتنے بڑے پیمانے پر نہیں چل رہا کہ ہر مریض کو رجسٹر کیا جا سکے اور یہ تب ہی ممکن ہے جب کہ ہم ہر ایک پاکستانی کا ٹیسٹ کرکے تصدیق کریں کہ کون متاثر ہے اور کون نہیں اور یہ سب کچھ کرنا اتنا آسان نہیں، اس لیے جہاں بہت فنڈز کی ضرورت ہے، وہیں افرادی قوت سمیت عوام میں شعور بیدار کرنے کی بھی ضرورت ہے جب کہ اس حوالے سے قانون سازی کی بھی ضرورت ہے۔

 

 

سرورق فوٹو: ایک رضاکار سہون شریف میں شہریوں کو ایچ آئی وی کے بارے میں معلومات اور آگاہی فراہم کر رہا ہے۔ تصویر بشکریہ

Enhanced HIV AIDS Control Programme, Sindh

No comments

leave a comment