Infographics
Videos
July 14, 2020
MULTIMEDIA

ایشیاء کی سب سے بڑی ٹراؤٹ ہیچری کو ماحولیاتی تبدیلی سے خطرہ

چالیس سالہ محمّد یعقوب کے ذرائع آمدن کا تعلق آب و ہوا سے ہےاور پچھلے کچھ سالوں سے ان کے مسائل میں دن بدن اضافہ ہو تا جا رہا ہے۔ انہوں نے 17 سال پہلے خیبر پختونخواہ کے ضلع سوات کے دور افتادہ پہاڑی گاؤں چیل میں برساتی نالے پر ٹراؤٹ مچھلی پالنے کیلئے ایک فارم تعمیر کیا تھا۔ یعقوب کو ماحولیاتی تبدیلی کا پہلا دھچکا تب لگا جب 2010 کا تباہ کن سیلاب ان کے ٹراؤٹ فارم کو بہا کر ساتھ لے گیا۔ انہوں نے پانچ سال پہلے مالی مشکلات کے باوجود فارم دوبارہ تعمیر کیا لیکن یہ کوئی آسان کام نہیں تھا۔ یعقوب کے مطابق سیلاب کے بعد سے مچھلیوں کی بیماریوں میں اضافہ ہو گیا ہے اور برساتی نالے میں اتار چڑھاؤ ختم ہونے سے پانی میں آکسیجن کی مقدار کم ہو گئی ہے جس کی وجہ سے مچھلی کی پیداواری صلاحیت بری طرح سے متاثر ہو رہی ہے۔

محکمہ ماہی پروری خیبر پختونخواہ نے نایاب اور قیمتی ٹراؤٹ مچھلی کے تحفظ اور بہترین افزائش نسل کیلئے ضلع سوات میں تحصیل بحرین کے علاقے مدین چیل روڈ پر برساتی نالے کے کنارے ایک تحقیقاتی مرکز، ہیچری اور فارم قائم کیا ہوا ہے۔ یہاں پر ٹراؤٹ فارمز کے مالکان اور زمینداروں کی تربیت کے ساتھ ساتھ ٹراؤٹ مچھلی میں بیماریوں کی روک تھام کیلئے مدد بھی فراہم کی جاتی ہے۔ جہان شیر خان اس مرکز میں ڈپٹی ڈائریکٹر ہیں۔ ان کے بقول پچھلے کئی سالوں سے موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ٹراؤٹ مچھلی کی بیماریوں اور نوزائیدہ ٹراؤٹ کی اموات میں اضافہ رونما ہوا ہے اور مچھلی کی پیداواری صلاحیت ماضی کے مقابلے میں 15 سے 20 فیصد تک کم ہوئی ہے۔ ان موسمیاتی عوامل میں خشک سالی ، آبی آلودگی، برساتی نالوں میں پانی کی کم مقدار اور مقامی درجہ حرارت میں اضافہ شامل ہیں۔

جہان شیر خان نے کہا کہ ٹراؤٹ مچھلی میں چند پر اسرار بیماریوں کی شکایات بھی موصول ہوئی ہیں جن کی تشخیص کیلئے نا صرف ملک کی بہترین لیبارٹریوں کو بلکہ بیرونی ممالک میں بھی نمونے بھیج دیے گئے ہیں جن کے نتائج سامنے آتے ہی روک تھام کا لائحہ عمل طے کیا جائیگا۔

ٹراؤٹ مچھلی کئی لحاظ سے دوسری مچھلیوں سے مختلف ہے کیونکہ یہ انتہائی نازک، نایاب اور قیمتی مچھلی صرف بہتے تازہ ٹھنڈے پانی میں زندہ رہ سکتی ہے۔ بڑی ٹراؤٹ مچھلی 19 ڈگری سینٹی گریڈ تک زندہ رہتی ہے لیکن ننھی مچھلیوں کیلئے درجہ حرارت 12 ہی آخری نقطہ ہوتا ہے۔ تاریخی اعتبار سے مناسب آب و ہوا کے باعث سوات کو ٹراؤٹ مچھلی کی افزائش نسل کیلئے قدرتی طور پر موزوں جگہ شمار کیا جاتا رہا ہے اور مقامی ٹراؤٹ فارم مالکان کے مطابق سوات ایشیا کی سب سے بڑی ٹراؤٹ ہیچری کا درجہ رکھتی ہے۔

لیکن اب موسمی تبدیلی سے یہ مقام خطرے میں ہے۔ محکمہ موسمیات خیبر پختونخواہ کے مطابق پچھلے دس سالوں میں ضلع سوات کی تحصیل کالام میں درجہ حرارت 2.5 سے 3 ڈگری تک بڑھ گیا ہے۔ درجہ حرارت میں اضافے سے ٹراؤٹ کی پیدائش اور افزائش کیلئے مناسب حالات قائم رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ ایک اندازے کے مطابق گلیشیر پگھلنے کی رفتار بھی کئی گناہ بڑھ گئی ہےجس کی وجہ سے دریاۓ سوات کے ارد گرد آبادی کو ہر سال سیلاب سے نقصان پہنچنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

******

صوبائی محکمہ ماہی پروری کے مطابق سوات میں ٹراؤٹ پالنے کی ابتدا 1960 میں والیء سوات کے زمانے میں تب ہوئی جب انہوں نے انگلستان سے مذکورہ نسل کو درآمد کیا تھا۔ ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق ضلع سوات میں کالام، کیدام، میاندم، بحرین، ملکیال، مالم جبہ، لالکو ویلی اور بہرورینگاڑو ویلی میں 200 تک ٹراؤٹ مچھلی کے فارم قائم ہیں جن میں لگ بھگ 5000 افراد برسر روزگار ہیں۔

ادارے کے مطابق سالانہ2 لاکھ 50 ہزار کلوگرام ٹراؤٹ مچھلی یہاں سے پاکستان کے مختلف شہروں میں فروخت کی جاتی ہے جس کی مالیت 25 کروڑ روپے کے قریب بنتی ہے، جبکہ علاقے میں سیاحوں کی آمد میں اضافے، بہتر مارکیٹنگ اور مقامی زمینداروں کی حوصلہ افزائی سے اس مالیت کو بڑھایا جا سکتا ہے۔

فارم مالکان کے مطابق ایک انچ ٹراؤٹ مچھلی چھ، دو انچ 18، تین انچ 28 اور چار انچ 32 روپے میں فروخت ہوتی ہے۔ عام مچھلیوں کی نسبت ٹراؤٹ مچھلی پالنا کافی مشکل اور مہنگا کام ہے کیونکہ کھانے کی فیڈ کو فیصل آباد سے مہنگے داموں پر خریدا جاتا ہے جبکہ بیماریوں سے بچاؤ کیلئے ادویات کا بھی وقتا فوقتا استعمال کیا جاتا ہے۔ مچھلیوں کی نشو ونما کا عمل بھی کافی سست ہے کیونکہ ڈیڑھ سال میں ایک ٹراؤٹ کا وزن صرف 250 گرام تک پہنچتا ہے۔ ٹراؤٹ مچھلی سرکاری فارم سے 1000 سے 1100روپے فی کلو جبکہ نجی فارم سے 1500 تک اور اسی طرح ہوٹل میں فرائی مچھلی 1800 سے 2000 روپے تک فی کلو ملتی ہے۔

******

عثمان کا تعلق ضلع سوات کے علاقے مدین سے ہے اور وہ پچھلے 27 سال سے ٹراؤٹ پالتے ہیں۔ بڑی مچھلیوں کو ملک کے دوسرے شہروں میں بیچنے کے ساتھ انہوں نے سوات ہی کے علاقے چیل میں ہوٹل بھی بنایا ہوا ہے جہاں پر آنے والے سیاحوں کو کھانے کیلئے ٹراؤٹ مچھلی پکا کر پیش کی جاتی ہے۔ عثمان کا کہنا ہے کہ 2007 میں دہشت گردی اور 2010 میں سیلاب نے ایسی تباہی پھیلائی جن کے اثرات بیماریوں، ننھی مچھلیوں کی شرح اموات میں اضافے اور پیداوار میں کمی کی شکل میں ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے اپنے فارم کی ہیچری میں سالانہ 10 سے 15 لاکھ ٹراؤٹ مچھلیاں پیدا ہوتی ہیں لیکن بمشکل 15 سے 16 ہزار زندہ بچ جاتی ہیں کیونکہ تین مختلف بیماریوں کی اب تک تشخیص نہیں ہو پائی جبکہ حکومتی اداروں کے پاس فارم مالکان کی مدد کرنے کیلئے محدود وسائل دستیاب ہیں۔ عثمان کے مطابق مچھلیوں کی اموات پچھلے سالوں کی نسبت 15 فیصد تک بڑھ چکی ہیں۔

جہان شیر خان کے مطابق سوات میں سرکاری اور نجی سطح پر ٹراؤٹ کے سیڈ یا بچوں کی سالانہ پیداوار 20 سے 25 لاکھ ہے جن کو موجودہ وقت میں بیماریوں سے شدید خطرات لاحق ہیں جن پر قابو پانے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ ان کے بقول پانی اور مچھلیوں کے نمونے تشخیص کیلئے ملک کی بہترین لیبارٹریوں  سمیت بیرون ملک بھی بھیج دیے گئے ہیں تاکہ بے دریغ اموات کی وجوہات معلوم ہو سکیں۔

محمّد یعقوب اپنے فارم میں موجود ہزاروں ننھی ٹراؤٹ مچھلیوں کی پرورش کیلئے پریشان ہیں کیونکہ بڑی مچھلیوں کی نسبت یہ ننھی مچھلیاں انتہائی نازک ہوتی ہیں۔ ان کو برساتی نالے میں بہتے ہوۓ پانی میں نہیں پالا جا سکتا۔ یعقوب کے مطابق نالے کے پانی میں درکار آکسیجن کی مقدار کم ہوتی ہے اس لئے کافی فاصلے سے پائپ کے ذریعے چشموں کا پانی مہیا کیا جاتا ہے۔

چھوٹی ٹراؤٹ کو کھلے تالاب کے بجائے سایہ دار مقامات میں رکھا جاتا ہے تاکہ دھوپ کی شدّت اور شکاری پرندوں سے محفوظ کیا جا سکے لیکن فارم مالکان کا کہنا ہے کہ بیماری میں اضافے کی وجہ سے اموات میں کافی اضافہ ہو چکا ہے جو کہ انتہائی تشویش ناک ہے۔

برساتی نالے سے فارم کے تالابوں تک پانی مہیا کرنے کیلئے چھوٹی ندیاں تعمیر کرائی گئی ہیں لیکن بارش اور آندھی کی صورت میں پانی کی مقدار بڑھنے اور مٹی اور ریت کے ساتھ دوسرے فضلاء آنے کا زیادہ اندیشہ ہوتا ہے جس پر دن رات نظر رکھنا پڑتی ہے۔ مقامی فارم مالکان کا کہنا ہے کہ وادی میں سیاحوں کی تعداد میں اضافے کے ساتھ آبی آلودگی کافی بڑھ چکی ہے اور بڑی مچھلیوں کی صحت کیلئے خطرناک شکل اختیار کر چکی ہے۔

 

 

واجد علی جیسے کئی فارم مالکان نومبر سے مارچ تک کے مہینوں میں مخصوص مچھلیوں سے انڈے حاصل کرنے کے ماہر ہیں، لیکن ٹراؤٹ بچے پیدا کرنے کیلئے 12 سے 13 ڈگری درجہ حرارت درکار ہوتا ہے کیونکہ انکیوبیٹر میں انڈوں کے خراب ہونے کا زیادہ اندیشہ ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے ماضی میں ٹراؤٹ کے انڈوں کو بیرونی دنیا سے مہنگے داموں درآمد کیا جاتا تھا لیکن اب یہاں کے لوگ اتنے ماہر ہیں کہ نہ صرف مقامی بلکہ شمالی علاقہ جات سے بھی یہاں خریدار آتے ہیں۔ ان کے بقول پہلے کی نسبت گرمی کی شدت میں اضافہ ہو چکا ہے جس کی وجہ سے کوشش ہوتی ہے کہ سیڈ کے حصول کو سرد موسم میں ہی مکمل کر لیا جائے۔

محمّد یعقوب کے مطابق ٹراؤٹ کی بیماریوں کی روک تھام اور راہنمائی کیلئے علاقے میں موجود ماہی پروری کے مرکز سے مدد کیلئے رجوع کیا جاتا ہے جہاں سے محدود وسائل میں مدد تو فراہم ہوتی ہے لیکن جدید آلات اور تربیت یافتہ عملے کے نہ ہونے کی وجہ سے زیادہ تر گھریلو ٹوٹکوں پر ہی گزارا کیا جاتا ہے جو اتنے موثر ثابت نہیں ہو رہے ہیں۔

جہان شیر خان کے مطابق عالمی سطح پر ماحولیاتی تبدیلی کے ساتھ مچھلیاں پالنے میں نئے مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس پر قابو پانے کیلئے مختلف سطح پر کوششیں جاری ہیںجن میں جدید تربیت آب و ہوا میں آلودگی کو قابو کرنے کے ساتھ بیماریوں کی روک تھام کیلئے کام جاری ہے۔

سوات میں ٹراؤٹ صنعت کی ترقی کے حوالے سے صوبائی وزیر ماہی پروری محب الله خان کا کہنا ہے کہ ملک میں ٹراؤٹ کی مانگ میں اضافے اور لوگوں کو زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع فراہم کرنے کیلئے وزیر اعظم عمران خان اور وزیر اعلی محمود خان کی خصوصی ہدایات پر بالائی سوات کے مختلف علاقوں میں 200 ٹراؤٹ فش ہیچری اور ٹراؤٹ فش ولیج کا قیام عمل میں لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اس منصوبے پر صوبائی حکومت 60کروڑ روپے خرچ کرے گی۔ اس منصوبے کے تحت سالانہ آٹھ لاکھ کلو گرام ٹراؤٹ مچھلی پیدا کی جائیگی جبکہ عوام کو سالانہ تقریبا دو ارب روپے کا فائدہ ہوگا۔

وزیر ماہی پروری محب الله خان کے مطابق ہر نیا ٹراؤٹ فارم ایک کنال اراضی پر بنایا جائیگا جس کی لاگت کا تخمینہ 30 لاکھ روپے بتایا گیا ہے۔ اس میں سے آدھی رقم مالک جبکہ باقی آدھی رقم حکومت ادا کریگی۔ ایک اندازے کے مطابق ایک فارم سے سالانہ پیداوار کی مد میں 50 لاکھ روپے کی مچھلی مارکیٹ میں فروخت ہو سکے گی۔ مذکورہ منصوبے پر رواں سال عملی کام کا آغاز ہو جائیگا اور امید کی جا رہی ہے کہ منصوبہ تین سال کے عرصے میں مکمل کر لیا جائیگا۔

No comments

leave a comment