Infographics
Videos
January 16, 2021
MULTIMEDIA

خیبر پختونخواہ کا ڈی آر سی نظام: کیا پاکستان میں سستا انصاف ممکن ہے؟

یہ ایک بڑا میدان تھا جس میں درجن بھر نقاب پوش افراد ہاتھوں میں جدید اسلحہ تھامے کھڑے تھے۔ میدان کے درمیان میں دو نقاب پوش افراد نے ایک نوجوان کو ہاتھوں اور پیروں سے جکڑ کر زمین پر الٹا کھڑا کیا ہوا تھا ۔ ایک اور نقاب پوش شخص اس نوجوان پر کوڑے برسا رہا تھا ۔

سینکڑوں کی تعداد میں لوگ مداری کے تماشے کی طرح اس منظر کو دیکھ رہے تھے۔ کسی میں ہمت نہ تھی کہ ان نقاب پوشوں سے پوچھے کہ یہ کیا ہو رہا ہے یا انہیں اس ظلم سے روکے۔

اس دوران ایک نقاب پوش شخص جس نے ہاتھ میں جدید گن تھام رکھی تھی قرانی آیات پڑھ رہا تھا ۔ تلاوت سے فارغ ہو کر اس نے اعلانیہ انداز میں مجمعے کو مخاطب کرتے ہوۓ کہا، ہم نے شریعت کے مطابق اس شخص کو سزا دی ہے، یہ شخص لوگوں کو خراب گوشت فروخت کر رہا تھا۔

پھر اس نے دھمکی دی کہ اگر کسی نے بھی کوئی جرم کیا تو اس کو شریعت کے مطابق سزا دی جائیگی۔

مجمع خاموش رہا۔

نقاب پوش شخص نے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوۓ پوچھا، کیا تمھیں شریعت کے مطابق انصاف چاہیے؟

سب نے کہا، ہاں۔

اس نے کہا کہ ہم اس ملک میں یہی نظام چاہتے ہیں اور اس کیلئے لڑتے رہیں گے۔

یہ واقعہ ان درجنوں واقعات میں سے ایک ہے جو سوات میں سال 2007 سے 2009 کے دوران ہونے والی شورش کے وقت پیش آئے، جب طالبان نامی عسکریت پسند گروہ نے ضلع سوات میں اسلحے کے زور پر قبضہ کر لیا تھا۔ ان مسلح افراد کے طاقت ہتھیا لینے کے عزائم کے ساتھ ساتھ یہ عوامی رائے کو اپنی طرف مائل کرنے کیلئے یہ دعوی بھی کرتے تھے کہ وہ سستے اور فوری انصاف کی کمی کو پورا کرنے کیلئے ائے ہیں۔ ہزاروں کی تعداد میں یہ اسلحہ بردار ملا فضل الله کی سربراہی میں سوات کے طول و عرض میں شرعی نظام کیلئے جنگ لڑ رہے تھے۔ اس سے ٹھیک پندرہ سال قبل ملا فضل الله کے سسر صوفی محمّد نے بھی سوات میں شرعی نظام عدل کیلئے حکومت وقت کو چیلنج کیا تھا ۔ ان تحریکوں کے عوامل اور وجوہات تو متعدد اور پیچیدہ ہیں اور ان کا انجام سوات کی عوام کیلئے خونی اور تکلیف دہ تھا لیکن کسی نہ کسی مرحلے پر ان تحریکوں نے عدالتوں میں بروقت انصاف نہ ملنے کی حقیقت کو اپنی طاقت اور اثر رسوخ بڑھانے کیلئے استعمال کیا۔

******

مینگورہ کے رہائشی اڑتالیس سالہ خورشید احمد باچا بائیس سال کی عمر سے عدالتوں میں مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کے دادا کی دو بیویاں تھیں جن میں سے ایک بیوی نے ان کی مطابق ان کی تمام جائیداد پر قبضہ کر لیا تھا۔ انہوں نے اپنی والدہ، نو بھائیوں اور دو بہنوں کیلئے وراثت کا مقدمہ مقامی عدالت میں درج کیا جو کہ مسلسل نو سال تک عدالتوں میں چلتا رہا۔ ان نو سالوں میں خورشید کی جیب سے پچیس لاکھ سے زائد رقم وکیلوں کی فیسوں، آمد و رفت، گواہوں کو عدالتوں میں پیش کرنے، ان کے کرایوں اور آؤ بھگت میں خرچ ہوئی۔  یہ رقم شاید اس جائیداد میں ان کو ملنے والے حصے کی آدھی سے بھی زیادہ رقم بنتی ہے ۔ اسی طرح خورشید کے مخالف فریق جو کہ ان کے رشتہ دار ہی تھے ان کے بھی اتنے ہی اخراجات ہوۓ بلکہ شاید اس سے بھی زیادہ۔ آخر میں تھک ہار کر ہم دونوں فریق آمنے سامنے ہو گئے اور جرگے کے ذریعے جائیداد کا تنازعہ حل کیا، خورشید باچا نے کہا۔ پاکستانی عدالتوں میں کسی بھی غریب شخص کو انصاف ملنا بہت مشکل ہے، انہوں نے کہا۔

خورشید نے بتایا کہ غریب شخص کے لئے کوئی گواہی نہیں دیتا۔ وکیل بغیر بھاری فیس کے مقدمے میں دلچسپی نہیں لیتے، بے بس اور لاچار لوگ خاموش ہو کر صبر کر لیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے ان نو سالوں میں سینکڑوں لوگوں کو عدالت کے چکر کاٹتے ہوۓ دیکھا ہے۔ انصاف نہ ملنے پر بے بس لوگ خود کشی کر لیتے ہے یا قانون کو اپنے ہاتھ میں لیتے ہیں۔ عدالت کے اندر میرے سامنے کئی قتل ہوۓ ہیں، خورشید نے کہا۔ ان کے مطابق پاکستان کے عدالتی نظام می جھوٹ پر جھوٹ چلتا ہے۔ مقدمات میں ملوث تمام لوگوں سے با قاعدہ بیان ریکارڈ کرنے سے قبل قرآن شریف پر حلف لیا جاتا ہے، خورشید نے بتایا۔ مگر میرے علم کے مطابق زیادہ تر لوگ اپنے بیانات سے مکر جاتے ہیں، انہوں نے کہا۔

 

 

خورشید باچا نے کہا کہ عدالتی نظام میں بہت ساری پیچیدگیاں ہیں اور مقدمات کو طول دینے کے عجیب عجیب طریقے ہوتے ہیں۔ کبھی ایک وکیل موجود نہیں، کبھی ہڑتال، کبھی میڈیکل کا مسئلہ، کسی مقدمے کے دوران درخواست دی جاتی ہے جس پر تمام کارروائی روک کر بحث ہوتی ہے۔ مقدمے پر حکم جاری ہونے کے باوجود دوسری عدالت میں اپیل کر دی جاتی ہے۔ ایک نہ رکنے والا سلسلہ ہوتا ہے، مقدمہ بازی میں ملوث افراد ذہنی مریض بن جاتے ہیں کبھی بابوں اور مزاروں سے دم کرواتے ہیں، کبھی تعویذ گنڈوں کا سہارا کیا جاتا ہے۔ خورشید کے مطابق مشورہ یہی ہے کہ پاکستان کی کسی بھی عدالت میں مقدمہ بازی نہ کی جائے، اس ہی میں سکون اور خیر ہے۔

******

سوات بار ایسی ایشن کے صدر حضرت معاذ کا کہنا ہے کہ سوات 1969 تک ایک الگ اور آزاد ریاست تھی۔ اس وقت سوات میں لکھا ہوا باقاعدہ آئین نہیں تھا مگر لوگوں کے تنازعات کے فیصلے روایتی طریقوں، جرگوں اور پشتون روایات کے مطابق کیے جاتے تھے۔

لوگ اس وقت کی عدالت سے مطمئن تھے کیوں کہ ایک سادہ کاغذ پر حکومت کو درخواست لکھی جاتی اور چند ہی دنوں میں قتل سے لیکر معمولی تنازعات کے فیصلے ہو جاتے، حضرت معاذ نے بتایا۔

جب ریاست سوات پاکستان میں شامل ہوئی تو اس وقت کے حکمرانوں نے حکومت پاکستان کو کچھ شرائط پیش کیں جس میں کچھ قوانین فوری طور پر ریاست سوات میں نافذ نہیں ہوۓ۔ مجسٹریٹی نظام رائج ہوا، اس کے بعد سوات انصاف کے حوالے سے ایک تجربہ گاہ بن گیا۔ لوگوں کو انصاف کیلئے دھکے کھانے پڑے۔ اس وجہ سے لوگوں میں اشتعال پیدا ہوا اور انصاف کیلئے آواز اٹھانے والوں کے ساتھ دینا وقت کی ضرورت بن گیا۔ حضرت معاذ نے اس بات کی تائید کی کہ سوات میں جن تین بڑی تحریکوں نے کسی نہ کسی شکل میں انصاف کے حصول کا مطالبہ کیا  ان میں صوفی محمّد، ملا فضل الله کی طالبانائزیشن اور آخر میں سیاسی عمل کے ذریعے برسر اقتدار آنی والی تحریک انصاف بھی شامل ہیں۔ مگر انہوں نے کہا کہ ان تینوں تحریکوں نے سوات کے عوام کو انصاف دینے میں کوئی مدد نہیں کی بلکہ لوگوں کے جذبات کو مجروح کیا اور صرف ان کو کھوکھلے نعروں سے اپنے ساتھ ملایا۔

حضرت معاذ کے مطابق ضلع سوات میں بھی پاکستان کے دیگر علاقوں کی طرح عدالتیں کام کرتی ہے جن کے کچھ قوائد و ضوابط ہیں۔ سوات کے لوگ چونکہ تیز ترین فیصلوں کے عادی تھے ان کو پاکستانی عدالتوں کے پیچیدہ قوانین کا علم نہیں تھا اس وجہ سے یہ لوگ عدالتوں سے بد ظن تھے اور تا حال ہیں، انہوں نے کہا۔ ان کے مطابق موجودہ عدالتیں عوام کو تیز انصاف دینے میں ناکام ہیں، اس کی بڑی وجہ عدالتوں کا پیچیدہ نظام اور اس کے ساتھ عدالتوں پر کیسوں کا حد سے زیادہ بوجھ ہے۔ ایک عدالت میں ہزاروں کیس ہوتے ہیں جس کیلئے تاریخ پر تاریخ دی جاتی ہے اور اس وجہ سے فیصلوں میں تاخیر ہو جاتی ہے، حضرت معاذ نے کہا۔ عدالتوں میں اضافہ اس کا حل ہے۔

******

خیبر پختونخواہ صوبائی حکومت نے  2014 سے تنازعات کے حل کیلئے جرگہ سسٹم سے مماثلت رکھنے والا ڈی آرسی یعنی ڈسپیوٹ ریزولوشن کونسل کا نظام قائم کیا ہے۔ یہ ڈی آر سی خیبر پختونخواہ کو قانونی حیثیت حاصل  ہے۔ ڈی آر سی کے ذریعے کورٹ جانے سے پہلے لوگوں کے تنازعات کو باہمی افہام و تفہیم سے حل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس میں فریقین کے درمیان مصالحت کی جاتی ہے۔

سوات سے تعلق رکھنے والے ستر سالہ حاجی رسول خان نے ریاست سوات سے لیکر موجودہ نظام تک ہر دور دیکھا ہے۔  حاجی رسول مینگورہ تھانے میں ڈی آر سی یعنی مقامی جرگے کے سربراہ ہیں اور لوگوں کے درمیان تنازعات حل کراتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پختونوں نے اپنے سخت سے سخت اور بڑے سے بڑے مسائل اور تنازعات کو ہمیشہ جرگوں کے ذریعے حل کیا ہے۔ ریاست سوات میں بھی جرگوں کے ذریعے تنازعات حل کیے جاتے تھے۔ حاجی رسول کے مطابق یہ سسٹم انتہائی کامیابی سے جاری ہے۔ ایک جرگہ اکیس افراد پر مشتمل ہوتا ہے جس میں علاقے کے نیک نام عمائدین شامل ہوتے ہیں۔

روزانہ تین افراد متاثرہ لوگوں کو سنتے ہیں، فریقین کے درمیان صلح کرتے ہیں اور تنازعات کیلئے قابل حل تصفیہ کرتے ہیں، حاجی رسول نے بتایا۔ ان کے مطابق اس طرح  ہزاروں کی تعداد میں سالانہ فیصلے کیے جاتے ہیں جو کہ عدالت پر بوجھ کم کرنے کی ایک بڑی کوشش ہے۔ ان فیصلوں کے خلاف لوگ عدالتوں میں جا سکتے ہیں مگر یہ فیصلے عدالتوں میں ججوں کو بھی کارروائی کرنے میں انتہائی مددگار ثابت ہوتے ہیں کیوں کہ ڈی آر سی تمام تنازعات کو با قاعدہ تحریری شکل میں لے کر آتی ہے۔

ڈی آر سی میں قرضے کا کیس لانے والے محمّد زبیر کا تعلق سوات کے علاقے شموزو سے ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنی والدہ کے ساتھ عمرے کیلئے جانا چاہتے تھے، اس کیلئے مقامی ریکروٹینگ ایجنسی کو دو لاکھ سے زائد رقم ادا کی مگر اس ادارے میں ایک شخص نے ان کے ساتھ دھوکہ کیا اور عمرے پر بھیجنے کی بجائے رقم ہتھیا لی۔

دوستوں کے ساتھ مشورے کے بعد میں نے ڈی آر سی میں درخواست دی جس پر متعلقہ شخص کو بلایا گیا، زبیر نے کہا۔ ہمارا مسئلہ چند دنوں میں ڈی آر سی میں موجود اہلکاروں نے حل کیا۔

زبیر نے بتایا کہ اس شخص کے پاس رقم نہیں تھی، اس سے ڈی آر سی کے ارکان نے ضمانت لے لی اور قسطوں میں رقم ادا کرنے کا پابند کر لیا جبکہ کچھ رقم انہیں اسی وقت ادا کر دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ میں اس فیصلے سے مطمئن ہوں، میں نے خود ایم فل کیا ہوا ہے میرے کئی دوست وکیل ہیں ان سے میں عدالت کے واقعات سنتا ہوں اس کیس میں وکیلوں کی فیسوں سے بچ گیا۔ اس طرح عدالت میں منشیوں اور اسٹام پیپر فروشوں کے اخراجات سے بھی نجات ملی۔

میں نے خود اپنا مقدمہ ڈی آر سی ممبر ان کے سامنے پیش کیا، زبیر نے بتایا۔ انہوں نے غور سے سنا اور بغیر کسی اضافی رقم اور وقت ضائع کئے بغیر میرا مسئلہ حل ہوا۔ انہوں نے کہا کہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ ایک معیاری کونسل ہے جس میں عوام کو سستا انصاف مل جاتا ہے۔

محمّد زبیر ان ہزاروں لوگوں میں سے ایک ہیں جن کا مسئلہ ڈی آر سی مینگورہ پولیس سٹیشن میں حل ہوا۔ سوات پولیس کے ریکارڈ کے مطابق ضلع سوات میں پندرہ ڈی آرسی مختلف تھانوں میں لوگوں کے تنازعات حل کر رہی ہیں۔ سال 2019 میں ان سینٹروں میں 3762 کیس رجسٹر ہوۓ تھے جن میں 3210 پر فیصلے ہوۓ۔

اس کے بر عکس سوات میں لوئر عدالتوں کی تعداد 34 ہے۔  ان عدالتوں میں سال 2019 میں مقدمات کی تعداد 22460 تھی جبکہ دس ہزار سے زائد کیس پچھلے سالوں سے الگ زیر التوا تھے۔ سال بھر میں 22380 کیس عدالتوں میں چلتے رہے، اس طرح سال کے اختتام پر دس ہزار سے زائد کیس زیر التوا رہے۔ عدالت سے حاصل کردہ معلومات کے مطابق فیصلہ شدہ مقدمات میں 80 فیصد سے زائد کو دیگر عدالتوں میں چیلنج کیا گیاہے۔

******

خیبر پختونخواہ اور خصوصا ضلع سوات میں لوگوں کو انصاف دلانے کے بارے میں عدلیہ سے موقف لینے کی بار بار کوشش کی گئی مگر انہوں نے معذرت کر لی۔

سوات بار ایسوسی ایشن کے سینئر ممبر عطا الله جان ایڈووکیٹ کی ڈی آر سی کے ذریعے تنازعات حل کرنے کے بارے میں یہ رائے ہے کہ وہ بطور وکلاء بھی یہ چاہتے ہیں کہ عوام کو سستا، جلد اور موثر انصاف مل جائے۔ ان کا خیال ہےکہ ڈی آر سی عدالتوں کے ساتھ ایک متوازی نظام ہے جس کے فیصلے علاقے کے عمائدین کرتے ہیں جن کے پاس قانون کے بارے میں آگاہی نہیں ہوتی۔ جبکہ ان کے ذریعے راضی نامہ قانونی طور پر مستحکم بھی نہیں ہوتا اور تنازعہ ایک مرتبہ پھر عدالتوں میں لایا جاتا ہے۔ حکومت اور جو لوگ تنازعات اور مقدمات کو جلد حل کرنا چاہتے ہیں تو موجودہ عدالتی نظام میں اصلاحات لائیں۔ ڈی آر سی کے کچھ وقتی فوائد ضرور ہیں مگر ان کے فیصلے یا راضی نامے دیرپا اور موثر نہیں ہیں۔

ضلع سوات کے مرکزی شہر مینگورہ کے پولیس ڈی ایس پی دیدار غنی کے مطابق ڈی آر سی کی کارکردگی اب اتنی اچھی چل رہی ہےکہ لوگ از خود اپنے تنازعات ڈی آر سی کے پاس لے کر آتے ہیں بہرحال پولیس اہلکاران دیوانی مقدمات کو ڈی آر سی بھجواتے ہیں جو کہ معمولی نوعیت کے ہوتے ہیں جن میں خاندانی تنازعات، محلے داروں کے درمیان معمولی جھگڑے وغیرہ شامل ہیں۔ ڈی آر سی بہت زیادہ اہم کام ادا کرتی ہے۔ یہ پولیس پر بھی بوجھ کم کر دیتی ہیں کیوں کہ پولیس اہلکار اس کی وجہ سے سنجیدہ اور سنگین قسم کے جرائم کی روک تھام پر توجہ دیتی ہیں۔ ڈی ایس پی نے اس بات کو یکسر مسترد کیا کہ ڈی آر سی کے ممبران کو قانون اور علاقے کے روایات کا زیادہ علم نہیں ہوتا۔ ان کے مطابق مینگورہ ڈی آر سی میں تجربہ کار وکیل، علاقے کے معزز مشاہیر، اور تعلیم یافتہ لوگ شامل ہیں اور ان کے حل کردہ تنازعات اتنے موثر ہوتے ہیں کہ بہت ہی کم لوگ دوبارہ عدالت میں جاتے ہیں۔

سوات سے دو بار منتخب ہونے والے صوبائی اسمبلی کے رکن اور پاکستان تحریک انصاف ملاکنڈ ڈویژن کے صدر فضل حکیم سے عدالتی نظام کے متعلق شکایات کے بارے میں سوال پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ بالکل تحریک انصاف نے عوام کو کرپشن فری پاکستان اور انصاف دینے کا وعدہ کیا تھا۔

ہم نے پورے صوبے میں سب سے پہلے معاشرتی انصاف کو یقینی بنا دیا ہے، فضل حکیم، جو کہ سوات ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ اینڈ ایڈوائزری کمیٹی کے چیئرمین بھی ہیں، نے بتایا۔ کسی بھی محکمے میں عوامی حق تلفی نہیں ہو رہی ہے، انہوں نے کہا۔

انہوں نے کہا کہ تمام بھرتیاں میرٹ پر کی جا رہی ہیں، پولیس جو کہ انصاف دلانے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے ان کو با اختیار بنا دیا ہے مگر ان پر با قاعدہ چیک ہے، سیاسی مداخلت سے آزاد کر دیا ہے مگر جو پولیس اہلکار عوام کو انصاف فراہم نہیں کرتے ان کے خلاف سخت کارروائی کی جاتی ہے۔ اس طرح تقریبا تمام محکموں میں سیاسی مداخلت نہ ہونے کے برابر ہے۔ انہوں نے عدالتی نظام کے بارے میں کہا کہ میں مانتا ہوں کہ انصاف دینے کی رفتار سست ہے، لوگوں کو اس سے شکایات ہیں جس پر صوبائی حکومت نوٹس لیتی ہے اور قانون سازی بھی کرتی ہے مگر سب سے زیادہ ذمہ داری وکلاء برادری پر عائید ہوتی ہے۔ وکلاء کو معلوم ہوتا ہے کہ ظالم کون ہے اور مظلوم کون، ایم پی اے فضل حکیم نے کہا۔ اگر وکلاء ظالم کا ساتھ نہ دیں، اگر یہی طبقہ مظلوموں کا ساتھ دے، مقدمات کو بے جا طوالت نہ دے تو عدالتوں میں انصاف کا حصول آسان بھی ہو جائیگا اور مظلوم کو ان کا حق بھی مل جائیگا، انہوں نے کہا۔

No comments

leave a comment