Infographics
Videos
December 8, 2019
MULTIMEDIA

آر ٹی آئی ایوارڈز: محمّد اکمل، معلومات تک رسائی کا حق استعمال کرنے والے بہترین صحافی

معلومات تک عالمگیر رسائی کے عالمی دن کے موقع پر پاکستان میں کولیشن آن رائٹ ٹو انفارمیشن نے اپنے سالانہ آر ٹی آئی چیمپئنز ایوارڈز کی تقریب کا انعقاد کیا۔ یہ ایوارڈ بہترین صحافی، بہترین شہری اور بہترین پبلک انفارمیشن آفیسر کی کیٹگریز میں دیا جاتا ہے۔

اس سال بہترین صحافی کی کیٹگری میں یہ ایوارڈ جھنگ سے تعلق رکھنے والے صحافی محمد اکمل کے نام رھا۔ محمد اکمل اس وقت ڈان ٹی وی کے ساتھ منسلک ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ مختلف ویب سائٹس کے لیے بھی لکھتے ہیں۔

میڈیا فار ٹرانسپیرنسی نےمحمد اکمل سے ان کی اس کامیابی اور پنجاب میں معلومات تک رسائی کے قانون کو صحافت میں استعمال کرنے کے حوالے سے بات کی۔

محمد اکمل کا کہنا تھا کہ مجھے اپنی صحافت میں اس قانون کا بہت زیادہ فائدہ ہوا ہے۔ میں  نے اس قانون کا استعمال کرتے ہوئے زیادہ تر خبریں تعلیم اور صحت کے حوالے سے کی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ویسے تو وہ جھنگ میں ڈان ٹی وی کے رپورٹر ہیں لیکن انہوں نے اس قانون کا سہارا لیکر زیادہ خبریں پنجاب لوک سجاگ کی ویب سائٹ کے لیے کی ہیں جو کہ ضلعی سطح پر عوامی امور سے منسلک خبریں شائع کرتی ہے۔

اکمل کے مطابق ٹی وی نیوز کا ماحول مختلف ہوتا ہے۔ وھاں وقت کی کمی ہوتی ہے۔ ڈیڑھ منٹ کے پیکج میں ساری انفارمیشن کا استعمال ناممکن ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے پبلک ریکارڈز کی مدد سے کچھ خبریں ٹی وی کے لیے بھی کی ہیں لیکن وہ اتنی تفصیلی نہیں تھیں۔

Muhammad Akmal (left) receives his RTI Champions Award from international RTI expert Toby Mendel. Photo courtesy CPDI.

 مشکلات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ شروع شروع میں بہت مشکل پیش آئی۔ سرکاری اداروں میں بھی لوگوں کو پتہ نہیں ھوتا تھا کہ یہ کون سا قانون ہے۔ اس لیے بہت تگ ودو کرنی پڑتی تھی۔ لیکن اکمل نے کہا کہ اب کم از کم جب میں کوئی انفارمیشن مانگتا ہوں تو پہلے جیسے حالات نہیں ہیں۔ لیکن پھر بھی بہت جدو جہد کرنے کی ضرورت ہے۔

اکمل نے بتایا کہ بنیادی مسئلہ اب بھی آگاہی کا ہی ہے۔ نہ سرکاری افسران کو اس قانون کا علم ہے اور نہ صحافیوں کو۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے بر سر اقتدار آنے پر امید تھی کہ آر ٹی آئی قانون کے حوالے سے کام ہوگا لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوا۔ افسروں کو بھی آگاہی نہیں اور وہ معلومات دینے سے ڈرتے ہیں کہ بات ان پر آئے گی اور یہ حقیقت بھی ہے۔ بقول اکمل افسران پر ہر سٹوری کی اشاعت کے بعد دباؤ آتا ہے اور اگلی دفعہ معلومات دیتے ہوئے وہ مزید مسائل پیدا کرتے ہیں۔

صحافی اس قانون کا بہتر استعمال کیسے کر سکتے ہیں؟ اس سوال پر محمد اکمل کا کہنا تھا کہ زیادہ تر صحافی تو اس کے متعلق جانتے ہی نہیں۔ ان کو بتانے کی ضرورت ہے۔ اس قانون کے ٹھیک استعمال سے جہاں آپ اپنے کام کو آگے بڑھا سکتے ہیں وہیں آپ معاشرے کی بہتری میں حصہ دار بھی بن سکتے ہیں۔ لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ اس قانون کا استعمال دیانتداری سے کیا جائے۔ اکمل نے کہا کہ بدقسمتی سے آج کل صحافیوں میں بھی گھس بیھٹیے ہیں جو صحافت کے نام پر بلیک میلنگ کرتے ہیں۔

صحافت کے ساتھ محمد اکمل اپنا چھوٹا سا کاروبار بھی چلاتے ہیں۔ ایسا کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اس  کے متعلق محمد ان کا کہنا تھا کہ آج کل جس طرح کے حالات ہیں اس میں صحافت سے گھر چلانا مشکل ہے۔ نیوز ادارے اسلام آباد میں صحافیوں کو تنخواہ نہیں دے رہے تو ان کے جیسے ڈسڑکٹ رپوٹر کس گنتی میں آتے ہیں۔ اس لیے صحافت کے ساتھ ساتھ چھوٹا سا کاروبار ہے تاکہ گھرکا چولہا جلتا رہے۔

Tags

No comments

leave a comment