Infographics
Videos
October 17, 2019
MULTIMEDIA

آر ٹی آئی ایوارڈز: خیبر پختونخواہ پولیس کے عالمگیر اکبر بہترین پبلک انفارمیشن آفیسر قرار

پوری دنیا میں 28 ستمبر کو معلومات کا عالمی دن منایا گیا۔ پاکستان میں کولیشن آن رائٹ ٹو انفارمیشن  نے اپنے سال 2019 کے ایوارڈز کا انعقاد کیا۔ یہ ایوارڈ معلومات تک رسائی کے قوانین کو استعمال کرنے کے حوالے سے تین شعبوں میں دیے جاتے ہیں، بہترین صحافی، بہترین شہری، اور بہترین پبلک انفارمیشن آفیسر۔

اس سال بہترین پبلک انفارمیشن آفیسر کا ایوارڈ خیبرپختونخواہ پولیس کے عالمگیر اکبر خان کے نام رہا۔

میڈیا فار ٹرانسپرینسی  نے عالمگیر اکبر خان سے ان کی کامیابی ،بطور پبلک انفارمیشن آفیسر برائے خیبر پختونخواہ پولیس ان کے کام اور معلومات تک رسائی کے حق کیلئے بنائے گئے قانون کے حوالے سے بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایوارڈ جیتنے کی خوشی ہے لیکن زیادہ خوشی اس بات کی ہے کہ ایوارڈ خیبرپختونخواہ پولیس کے نام رھا اور افسران اور ان کے کام اور کوششوں کو سراہا گیا ہے۔

عالمگیر خان پبلک انفارمیشن آفیسر کے ساتھ ساتھ پولیس کی لیگل برانچ میں ایڈیشنل انسپکٹر جنرل لیگل کے ریڈر کی ذمہ داریاں بھی سرانجام دے رہے ہیں۔

مشکلات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مشکلات کافی ہیں۔ پولیس کا سسٹم ابھی مکمل طور پر کمپیوٹرازڈ نہیں اس لیے معلومات جمع کرنے میں مسائل کا سامنا رہتا ہے۔ دوسرا، جن اہلکاروں سے معلومات لینی ہوتی ہیں انہیں اس قانون سے متعلق آگاہی ہی نہیں ہے۔ ان کو اس قانون سے متعلق آگاہی دینے کی بہت ضرورت ہے۔

 ان کا کہنا تھا کہ رائٹ ٹو انفارمیشن قانون کے تحت محکمہ پولیس کو ہر طرح کے سوال موصول ہوتے ہیں۔ لیکن زیادہ تر سوال ہیومن رائٹس سے متعلق ہوتے ہیں۔اب درخواست دیکھ کر پتہ چل جاتا ہے کہ سوال پوچھنے والےکیا معلومات لینا چاہتے ہیں۔زیادہ تر لوگ اپنی تحقیق کے لیے اس قانون کا استعمال کر رہے ہیں۔ طلبا اپنی ریسرچ کے لیے اس قانون کا بہت اچھا استعمال کر رہے ہیں۔

لیکن بعض دفعہ ایسی درخواستیں بھی آتی ہیں جن میں چالیس پچاس سوال پوچھے جاتے ہیں۔ عالمگیر خان  نے کہا کہ ایسی درخواستوں کا بندہ کیا جواب دے۔ عام لوگوں کو بھی اس قانون کے متعلق  آگاہی دینے کی ضرورت ہے۔

ایوارڈز تقریب کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ بہت اچھا قدم ہے۔ ایوارڈ وصول کر کے بہت خوشی ہوئی ہے لیکن اور بھی بہت سے پبلک انفارمیشن آفیسرز بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔ ان کی بھی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے۔

اس سوال کے جواب میں کہ رائٹ ٹو انفارمیشن قانون کے استعمال کو مزید موئژ بنانے کے لیے کس طرح کے اقدامات کی ضرورت ہے ان کا کہنا تھا کہ اس قانون کے متعلق آگاہی ہی واحد راستہ ہے۔ عوام اور اداروں دونوں کو آگاہی کی ضرورت ہے۔

No comments

leave a comment