Infographics
Videos
April 24, 2018
MULTIMEDIA

پنجاب میں طلاق کا بڑھتا ہوا رجحان بچوں پر منفی اثر ڈالنے لگا

سات سالہ فاریہ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے والد سے سخت نفرت کرتی ہے اسے ان سے ملنا بلکل اچھا نہیں لگتا وہ صرف اپنے والدہ کے ساتھ رہنا چاہتی ہے۔ 5سالہ انصر کہتا ہے کہ وہ اپنے پاپاسے بہت پیار کرتا ہے لیکن نانی اماں پاپا سے ملنے پر ناراض ہوتی ہیں اور زیادہ ضد کرنے پر مار بھی پڑتی ہے اسی لئے وہ پاپا سے نہیں ملناچاہتا۔4سالہ علیزہ کا کہنا ہے کہ وہ میرے پاپا نہیں ہیں انکل ہیں جو کھلونے لے کرکبھی کبھی یہاں ملنے آتے ہیں لیکن پھر واپس چلے جاتے ہیں کیونکہ انکا وقت ختم ہو جاتاہے ۔دس سالہ ثناء کا کہنا ہے کہ وہ اور اسکے بہن بھائی یہاں اس لئے آتے ہیں تاکہ پاپا سے اپنا جیب خرچ لے سکیں۔ پاپا انھیں بلکل پسند نہیں کرتے لیکن عدالت کے ڈر سے وہ یہاں جیب خرچ دینے آتے ہیں۔ ایسے بہت سے دلچسپ اور بڑی بڑی باتیں کرنے والے ننھے فرشتوں سے ملنا ہو تو زیادہ دور نہیں ہفتے کے روز اپنے شہر کی کسی گارڈین یا فیملی کورٹ کا رخ کریں جہاں علیحدگی اختیار کرنے والے میاں بیوی اپنے بچوں کی حوالگی کے کیسز نمٹانے آتے ہیں۔

گزشتہ ہفتے لاہور سول سیکرٹریٹ کے قریب واقع گارڈین کورٹ جانے کا اتفاق ہوا جہاں علیحدگی اختیار کرنے والے سینکڑوں جوڑے اپنے بچوں کے ہمراہ  اپنی تقدیروں کو کوستے نظر آئے۔ مگربچوں کے مستقبل کے لئے پریشان متعدد والدین کے سامنے جب یہ سوال رکھا گیا کہ کیا انھیں اپنے فیصلے پر پچھتاوا ہے آخر کو انکی طلاق کا خمیازہ انکے بچوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے تو انکی انا ایک مرتبہ پھر آڑے آ گئی اور بچوں کو مستقبل ایک مرتبہ پھر ثانوی حیثیت اختیار کر گیا۔ ہمارے دین میں طلاق کو حلال ضرور قرار دیا گیا ہے مگر ساتھ ہی سخت ناپسندیدگی کا اظہار بھی کیا گیا ہے ۔حدیث نبوی ۖکے مطابق طلاق ناپسندیدہ ترین حلال عمل ہے۔ مگر ہمارے معاشرے میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت اس ناپسندیدہ ترین عمل میں تیزی سے اضافہ کر رہی ہے۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں طلاق کے کیسز کی بڑھتی ہوئی تعداد کسی المیے سے کم نہیں۔ ضلعی حکومت کی جانب سے مہیا کئے جانے والے اعدادوشمار کے مطابق پنجاب میں علیحدگی اختیار کرنے والے جوڑوں کی تعداد میں اوسطاَ سالانہ 9فیصد تک اضافہ ہو رہا ہے۔

محض نصف دہائی میں ضلعی حکومتوں کے پاس رجسٹر ہونے والے کیسز 56فیصد تک بڑھ گئے ہیں۔ خاندانی نظام کی توڑ پھوڑ اور طلاق  کے کیسز کی بڑھتی ہوئی تعداد جہاں معاشرے کے بگاڑ کی جانب اشارہ کررہی ہے وہاں ہی علیحدہ ہونے والے جوڑوں کے بچے بھی اپنے ماں باپ کے منفی رویوں کا شکار بن رہے ہیں۔ طلاق کے بعد حوالگی کیسز کی وجہ سے معصوم بچے کوٹ کچہریوں کے چکر کاٹنے پر مجبور ہیں جس سے انکی شخصیت اور نفسیات پر انتہائی گہرا اثر پڑ رہا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق سال 2012 سے 2017کے درمیان پنجاب کے 36اضلاع میں خلع یا طلاق کے 4 لاکھ 78ہزار130کیسز رجسٹر ہوئے ہیں، جن میں20فیصد صرف فیصل آباد اور لاہورکے اضلاع سے رپور ٹ ہوئے ہیں ۔پنجاب کے 36اضلاع سے سال2012میں  63ہزار7سو34 ، سال2013میں 69ہزار1سو26،سال 2014میں74ہزار6سو19،سال 2015میں77ہزار3سو27 ،سال 2016 میں 93ہزار5سو7اور سال2017میں  99ہزار5 سو 99جوڑوں نے علیحدگی اختیار کی۔

سالانہ رپورٹس کے مطابق پنجاب میں طلاق یا خلع کے سب سے زیادہ کیسز 2017میں رجسٹر ہوئے جبکہ سالانہ طلاق کی شرح میں سب سے زیادہ اضافہ 2016میں ہوا جب 2015 کے مقابلے میں 21فیصد زیادہ کیسزرجسٹر ہوئے۔

ماہرین کے مطابق طلاق کے بڑھتے ہوئے کیسز علیحدگی اختیار کرنے والے والدین کے بچوں کی تربیت کو بھی متاثر کر رہے ہیں۔

سال 2012 سے سال 2016کے درمیان 3لاکھ61ہزار301 والدین کی جانب سے بچوں کی حوالگی کے لئے پنجاب کی گارڈین کورٹس سے رجوع کیا گیا۔ بچوں کی حوالگی حاصل کرنے کے لئے سال2012میں 38ہزار2سو77 ، سال2013میں 66ہزار32،سال 2014میں69ہزار8سو29،سال 2015میں 89ہزار8سو 50 اور سال2016میں97ہزار3سو13کیسز دائر کیے گئے۔

گارڈین کورٹ میں اپنی 7سالہ بیٹی سے ماہانہ 2  گھنٹے کی ملاقات کرنے آنے والے عدیل کا کہنا ہے کہ”میں باپ ضرور ہوں مگر عدالتی نظام میں میری حیثیت ایک اے ٹی ایم مشین کی سی ہے جسے صرف ماہانہ خرچہ ادا کرنا ہوتا ہے ۔میں اپنی بیٹی کو بہت یاد کرتا ہوں ۔ طلاق کے بعد دفتر ی اور گھریلو زندگی تباہ ہو کر رہ گئی ہے ۔ میرا کوئی قصور نہیں تھا میری بیوی نے اپنی والدہ کے کہنے پر مجھے اپنے گھر والوں کو چھوڑ کر الگ گھر لینے کا مطالبہ کیا ۔ میری صرف ایک بہن اور ماں ہے میں انھیں کس کے پاس چھوڑ تا ۔ مطالبہ نہ ماننے پر میری بیوی3سالہ بیٹی کو لے کر اپنے والدین کے گھر چلی گئی اور پھرطلاق کو دعویٰ دائر کر دیاٴٴ۔

گارڈین کورٹ میں ہی دو بچوں کو والد سے ملوانے لانے والی ثانیہ سے بھی ملاقات ہوئی۔ ثانیہ کہتی ہیں کہ ” کئی وجوہات کی بنا پر میاں بیوی میں علیحدگی ہو جاتی ہے لیکن عدالتی نظام اس علیحدگی کو مشکل ترین بنا دیتا ہے۔ میں ایک ورکنگ وومن ہوں، بچوں کا خیال رکھ سکتی ہوں لیکن ہر مہینے یہاں عدالت میں آنا کسی اذیت سے کم نہیں۔ بچے اس ماحول میں سہم جاتے ہیں میری خدا سے یہی دعا ہے کہ کسی دشمن کو بھی یہاں نہ لائے”۔

عدالت میں بچوں کی حوالگی کا کیس لے کر آنے والے ہر فریق کو یہی لگتا ہے کہ وہ درست ہے مگر دونوں فریقین کی آپسی لڑائی کا خمیازہ صرف بچے بھگتتے ہیں۔

ماہر قانون فہد احمد صدیقی کا کہنا ہے کہ نان کسٹوڈین پیرنٹس (وہ ماں یا باپ جن کے پاس بچوں کی کسٹدی نہیں ہوتی) سے ایک ماہ میں دو گھنٹے کی ملاقات کے لئے عدالت آنے والے بچے خود اعتمادی کی کمی اور ذہنی کشمکش کا شکار رہتے ہیں۔ زیادہ تر نان کسٹوڈین والدین باپ ہوتے ہیں جواپنی حیثیت کے مطابق ماہانہ خرچہ دینے کے پابند ہوتے ہیں۔ تمام والدین کویہ سوچنا چاہیے کے علیحدگی میاں اور بیوی کے درمیان ہوتی ہے بچوں کی والدین سے نہیں۔ فیملی کورٹ کا قانون بھی بچوں کی بہتری کی بات کرتا ہے مگر ہماری عدالتوں میں ایک روایت بن چکی ہے کہ ہر کلاس سے تعلق رکھنے والے والدین کے لئے ایک ہی طریقہ کار یعنی عدالت میں دو گھنٹے کے لئے ملاقات تجویز کی جاتی ہے۔ انکا کہنا ہے کہ فیملی کورٹ کے قانون پر عمل درآمد اور طلاق سے قبل بچوں کی حوالگی کا باہمی فیصلہ طلاق کے منفی اثرات کو کم کرنے کاباعث بن سکتاہے۔

ماہر نفیسات ڈاکٹر سار حیدر کا کہنا ہے کہ معاشرے میں عدم برداشت کا بڑھتا ہوا رجحان صرف میاں بیوی کے ہی نہیں تمام رشتوں کو کمزور کر رہا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں ایسا کوئی ادارہ نہیں ہے جہاں علیحدگی اختیار کرنے کا فیصلہ کرنے والے جوڑوں میں صلح کروانے کی کوشش کی جائے یا انکی نفسیاتی کونسلنگ کی جا سکے۔ ترقی یافتہ ممالک میں طلاق کا کیس عدالت میں جانے سے قبل صلح کروانے والے ادارے کا سرٹیفیکیٹ لازم ہوتا ہے۔ والدین کو طلاق کا فیصلہ کرنے سے قبل بچوں کے بارے میں ضرور سوچنا چاہئے کیونکہ ماں یا باپ کسی ایک کے پاس رہنے والے بچوں میں نفسیاتی مسائل نہ بھی پیدا ہوں تو انکی شخصیت نامکمل رہ جاتی ہے۔

عالم دین قاری زوار بہادر کا کہنا ہے کہ خاندانی نظام کی کمزوری ،دین سے دوری اور بزرگوں کے احترام کا فقدان اس معاشرتی بگاڑ کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ اسلا م میں تین طلاقیں بیک وقت نہ دینے کا حکم اسی لئے دیا گیا ہے تاکہ غم و غصے اور جذبات کے زیر اثر فیصلہ نہ کیا جائے۔ اسلام میں طلاق کو ناپسندیدہ ترین لیکن حلال عمل اسی لئے قرار دیا گیا ہے کہ بعض حالات میں اسکی ضرورت پڑ سکتی ہے لیکن غصے کی حالت اور جلد بازی میں کئے گئے فیصلے پچھتاوے کا باعث بنتے ہیں۔ اسلامی نظریاتی کونسل تین طلاقیں بیک وقت دینے کے خلاف قانون سازی کرنے کی تجاویز بھی تیار کر رہی ہے لیکن اہم بات یہ ہے کہ ہمارے لوگوں میں اتنی آگاہی پیدا ہو سکے کے وہ باحیثیت زوجین جلد بازی میں فیصلہ کرنے کے بجائے کسی عالم دین، قانون دان یا کسی بزرگ سے رجوع کر سکیں۔ انھوں نے مزید بتایا کہ والدین کی مرضی کے بغیر شادی اور جوائنٹ فیملی سسٹم کا خاتمہ بھی طلاق کی بڑی وجہ بن رہا ہے کیونکہ میاں بیوی کے معمولی جھگڑے میں ماں باپ صلح صفائی میں کردار ادا کرتے تھے لیکن اب خودمختاری کے نام پر ہم اپنا عائلی نظام تباہ کر رہے ہیں۔

No comments

leave a comment