Infographics
Videos
July 18, 2018
MULTIMEDIA

سینکڑوں خیبر پختونخوا سرکاری افسران نیب کارروائی کے باوجود نوکریوں اور مراعات پر برقرار

تصاویر: عنیقہ حیدر / رپورٹر: شہزاد یوسفزئی

بڑے مقدمات جاری ہیں

سابق آنسپکٹر جنرل آف پولیس ملک نوید و دیگر کے خلاف درج مقدمے میں کل 224 ملین روپے کی بدعنوانی کا الزام ہے جس میں ملزمان سے 195 ملین روپے کی رقم وصول کرلی گئی ہے۔ 15 فیصد انسیڈینٹل چارچز کے خلاف ملزمان نے پشاور ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن نمبر 538+P/2015دائر کی تھی جس کا فیصلہ ملک نوید و دیگر کے حق میں آیا، فیصلے کے خلاف نیب ہیڈکواٹر نے سپریم کورٹ آف پاکستان سے رجوع کیا ہے۔

 

خیبرپختونخوا کے ضلع چارسدہ میں محکمہ ریونیو کے پٹواری محمد سعید کے خلاف درج مقدمے میں کل 224.25ملین روپے میں سے 195ملین روپے کی رقم وصول کرلی گئی ہے جبکہ ملزم نے باقی رقم دینے سے انکار کردیا ہے جس کے خلاف نیشنل اکاؤنٹیبلٹی آرڈیننس کے تحت کاروائی کی سفارش متعلقہ شعبے کو بھیج دی گئی ہے۔

 

دوبارہ پڑھنے کیلئے اوپر جایئے۔

 

اے این پی رہنما

چیف منسٹر آفس کے ایک مقدمے میں سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا امیر حیدر ہوتی کے پرسنل سیکرٹری سید معصوم شاہ پر 258 ملین روپے خرد برد کا الزام تھا نیب نے 225 ملین روپے کی ریکوری کرلی ہے جبکہ 34 ملین روپے انسڈینٹل چارجز کیلئے معصوم شاہ نے عدالت میں رٹ پٹیشن دائر کردی جس کے باعث عدالت نے نیب کو ریکوری سے روک دیا ہے۔

Syed Masoom Shah of the Awami National Party. Photo courtesy of Radio TNN

 

عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان کے فرزند اور پارٹی کے صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان نے چارسدہ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سید معصوم شاہ کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ نیب حکام نے معصوم شاہ پر بےپناہ دباو ڈالا اور انہیں امیر حیدر ہوتی کا نام لینے پر مجبور کیا، انہوں نے تمام تکلیفیں خود برداشت کیں لیکن امیر حیدر ہوتی کا نام نہیں لیا، ہم سید معصوم شاہ کی قربانی کو کبھی نہیں بھولیں گے۔

 

اگلا حصہ (بڑے مقدمات جاری ہیں) پڑھنے کیلئے دوبارہ اوپر جایئے۔

 

گزشتہ چار سال

نیب کی جانب سے فراہم کی گئی معلومات کے مطابق نیب خیبرپختونخوا نے سال 2013 سے سال 2017 تک کل 136 مقدمات کو نمٹایا، 5.295 ارب روپے کی مبینہ بدعنوانیوں کے ان مقدمات میں ملوث ملزمان سے 4.979 ارب روپے کی وصولیاں کی گئیں۔ مذکورہ مقدمات میں ملوث کل 554 افراد میں سے شعبہ تعلیم سے 101، محکمہ ریونیو کے 79، محکمہ صحت 63، کرک اور مردان میں ترقیاتی منصوبوں میں بدعنوانیوں میں 48، محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے 25 ، محکمہ لیبر کے 10، پاپولیشن ویلفیئر، پولیس، سوشل ویلفیئر اور محکمہ جنگلات کے 5،5 ، واپڈا اور ٹیسکو کے مجموعی طور پر 6، ایڈمنسٹریشن اور ریلوے کے 3، بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ڈی آئی خان کے دو اور اینٹی کرپشن اور وائلڈ لائف کا ایک ایک ملازم جبکہ 10 ٹھیکیدار شامل ہیں۔

 

دستاویزات کے مطابق ریکوری کے خلاف مختلف مقدمات میں ملوث 46 ملزمان نے سپریم کورٹ آف پاکستان سے جبکہ 6 افراد نے پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے جن کے مقدمات عدالتوں میں زیرسماعت ہونے کے باعث ان سے ریکوری نہیں کی جاسکی۔ 13 افراد نے ریکوری کی رقم کی بجائے زمین دیکر مقدمے سے جان چھڑائی جبکہ 11 افراد کو متعلقہ ضلع کے ڈی پی او کی جانب سے رقم قومی خزانے میں جمع کرانے کے نوٹس جاری کئے جاچکے ہیں۔

 

اگلا حصہ (اے این پی رہنما) پڑھنے کیلئے دوبارہ اوپر جایئے۔

 

نیب کی اصطلاحات

نیب مقدمات میں پلی بارگین یا رضاکارانہ طور(والنٹئیر ریٹرن) پر رقم واپس کرکے جان چھڑانے اور فراہم کی گئی معلومات میں استعمال ہونے والی اصطلاحات کے حوالے سے نیب کے ترجمان نوازش علی سے متعدد بار رابطہ کیا گیا لیکن انہوں نے غیرسنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس حوالے سے کوئی بات نہیں کی۔ تمام سوالات تحریری طور پر انہیں وٹس ایپ پر بھیجنے کے بعد انہوں نے تمام سوالات کا ایک ہی جواب دیا کہ یہ سارا معاملہ عدالت میں زیرسماعت ہے۔

 

 

اسی حوالے سے مزید معلومات کےلئے نیب کے سابق پی آر او حافظ عرفان سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ نیب میں کوئی بھی مقدمہ درج ہونے کے بعد اسکی تفتیش کے لئے قانونی ماہرین، تحقیقاتی آفیسر (انویسٹی گیشن آفیسر) سمیت پانچ رکنی ٹیم تشکیل دی جاتی ہے جو اس مقدمے کی تفتیش کرتی ہے، تاہم مقدمہ درج ہونے سے قبل نیب اپنے ذرائع سے اس سے متعلق معلومات اور دستاویزات بطور ثبوت حاصل کرچکی ہوتی ہے۔ اگر مقدمہ درج ہونے کے بعد سے دو ماہ کی مدت سے قبل ملازم مقدمے میں درج کئے گئے الزامات کو مان لیتا ہے اور پیسے واپس دینے کی حامی بھرلیتا ہے تو اسے رضاکاروانہ وصولی یعنی ولنٹیئر ریٹرن کہا جاتا ہے، لیکن اگر دو ماہ سے زائد کا عرصہ گزر جائے تو مقدمہ عدالت کے سامنے پیش کیا جاتا ہے اور عدالت میں مقدمے کی سماعت کے بعد اگر ملزم رقم واپس کرنے پر راضی ہوتا ہے تو اسے پلی بارگین کہا جاتا ہے۔

 

ان کا مزید کہنا تھا کہ دیگر صوبوں کی طرح نیب خیبرپختونخوا نے بھی پورے صوبے کو مختلف زون میں تقسیم کیا ہے جسے آئی ڈبلیو ون، آئی ڈبلیو ٹو وغیرہ کہا جاتا ہے۔ ہر زون کا سربراہ ڈائریکٹر ہوتا ہے جو اپنے ماتحت تفتیشی افسران کے ہمراہ مقدمے کی تفتیش کرتا ہے، انہوں نے بتایا کہ نیب نہ صرف شہریوں کی جانب سے دی جانے والی درخواستوں یا شکایات پر کاروائی کرتا ہے بلکہ نیب کا اپنا مانیٹرنگ سیل بھی قائم ہے جو خفیہ طور پر سرکاری اداروں سے متعلق امور پر نگاہ رکھتا ہے اور کسی بھی ادارے میں ہونے والی بدعنوانی سے متعلق مطلوبہ دستاویزات حاصل کرنے کے بعد مقدمہ درج کرکے انکے خلاف کارروائی کرتا ہے۔

 

اگلا حصہ (گزشتہ چار سال) پڑھنے کیلئے دوبارہ اوپر جایئے۔

 

احتساب یا کلین چٹ

 خیبر پختونخوا کی حکومت نے نیب کے ساتھ پلی بارگین یا رضاکارانہ طور رقم واپس کرکے بدعنوانی کے معاملات طے کرنے والے افسران کے خلاف تاحال کوئی تادیبی کارروائی نہیں کی اور کئی سال گزرنے کے باوجود مختلف مقدمات میں ملوث سرکاری ملازمین یا تو تاحال ان محکموں میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں یا ریٹائیر ہونے کے بعد محکمے سے پینشن سمیت تمام مراعات وصول کررہے ہیں۔

 

نیب دستاویزات کے مطابق نیب خیبر پختونخوا نے گزشتہ چار سالوں میں سرکاری اداروں کے ملازمین سمیت کل 554 افراد کے خلاف تقریبا سوا پانچ ارب روپے کی مالی بدعنوانیوں کے 136مقدمات نمٹائے، جن میں سے 502 افراد نے نیب سے پلی بارگین یا رضاکارانہ طور پر بدعنوانی کے مقدمے میں ملوث رقم واپس کرکے نیب کے ساتھ معاملات طے کئے۔

 

سینیٹر میاں عتیق کے سوال کے جواب میں ایوان بالا میں جمع کرائے گئے دستاویزات کے مطابق مذکورہ کاروائیوں میں نیب نے  5 ارب روپے کی رقم وصول کرکے قومی خزانے میں جمع کرائی جبکہ باقی رقم کی وصولی کے خلاف ملزمان نے یا عدالتوں سے رجوع کرلیا ہے یا انکے خلاف رقم کی وصولی کےلئے قوائد و ضوابط کے مطابق کاروائی کا سلسلہ جاری ہے۔ نیب خیبر پختونخوا کی ان کارروائیوں میں نیب کے آئی ڈبلیو ون، ٹو، تھری اور آر سی ونگز نے حصہ لیا۔

 

دستیاب دستاویزات کے مطابق نیب مقدمات میں ملوث افراد کی سب سے ذیادہ تعداد صوبائی دارالحکومت میں قائم مختلف سرکاری اداروں میں فرائض سرانجام دینے والوں کی ہے، پشاور کے مختلف سرکاری اداروں کے 62 ملازمین، کوہاٹ سے 39، نوشہرہ سے 15، بنوں، کوہاٹ اور سوات سے 10،10، چارسدہ سے 9، بٹہ گرام ، ڈی آئی خان اور لکی مروت سے 8، مردان اور مانسہرہ سے 7، تورغر، گلیات، چترال اور بٹ خیلہ سے مختلف سرکاری اداروں میں کام کرنے والے  5 ، 5 ملازمین نیب مقدمات میں ملوث رہے

 

تاہم دستاویزات میں بیشتر افراد کے ساتھ انکے اضلاع کی تفصیل نہ ہونے کے باعث درج بالا معلومات کو حتمی اعداد و شمار نہیں مانا جاسکتا۔نیب مقدمات میں ملوث سرکاری ملازمین کے خلاف ان کے محکموں نے یا تو کوئی کاروائی ہی نہیں کی یا ان کے خلاف شروع ہونی والی انکوائری پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

 

 

بورڈ آف ریونیو خیبرپختونخوا کے اسسٹنٹ سیکرٹری محمد جمال کے مطابق نیب کے مقدمات کی بنیاد پر انکے محکمے میں کسی ملازم کے خلاف تاحال کوئی کاروائی نہیں کی گئی اور نہ ہی ان ملازمین کے خلاف اس بنیاد پر کوئی محکمانہ انکوائری کی گئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ نیب اپنے مقدمات کی تفیصیل ہمیں فراہم نہیں کرتا اس لئے ہمیں نہیں معلوم کہ کون کون سے ملازم ان مقدمات میں ملوث ہیں۔ نیب کے دستاویزات میں خیبر پختونخوا کے  پانچ اضلاع میں 9 7 ریونیو اہلکاروں کے نام درج ہیں جنہیں نیب نے تفتیش کے دائرے میں شامل کیا اور ان سے 21 کروڑ روپے رقم خزانے میں واپس کرائی۔ ان اہلکاروں میں خیبر پختونخوا کے سابقہ وزیر برائے ریونیو سید مرید کاظم اور بورڈ آف ریونیو کے سینئر ممبر احسان الله کے نام بھی ہیں جن کے خلاف انکوائری میں آٹھ افراد نے 11 کروڑ مالیت کی زمین نیب کو واپس کی۔

 

               محکمہ پبلک ہیلتھ انجینیرنگ کے سیکشن آفیسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ نیب کے مقدمات میں ہمارے محکمے کے کل 39 ملازمین شامل ہیں جن میں سے 36 ملازمین کے خلاف محکمانہ انکوائری جاری ہے جبکہ گریڈ سترہ یا اس سے اوپر کے ملزمان کے خلاف کاروائی اسٹیبلشمنٹ ڈویڑن کے دائرہ اختیار میں آتا ہے اس لئے تین افسران نعیم خان، محمود الحسن اور سجاد علی کے کیسز انہیں بھیج دیئے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ نیب مقدمات کی بناء تاحال کسی بھی اہلکار کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی گئی۔

 

اسٹیبلشمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے سیکشن آفیسر اختر نواز نے پبلک ہیلتھ انجینیرنگ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے بھیجے کئے کیسز سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے مقدمات یا الزامات میں ملوث افسران کے خلاف کاروائی متعلقہ ڈیپارٹمنٹ ہی کرتا ہے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈیپارٹمنٹ کو اسکی صرف سمری بھیجی جاتی ہے۔

 

 پلی بارگین یا رضاکارانہ طور پر رقم واپس کرنے والے افراد کی فہرست میں محکمہ تعلیم کے 101افراد بھی شامل ہیں، نیب مقدمات میں ملوث محکمہ تعلیم کے ملازمین کے حوالے سے خیبرپختونخوا ڈائریکٹر ایلمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے ڈائریکٹر رفیق خٹک نے بتایا کہ محکمہ تعلیم کے افسران کے خلاف نیب میں درج ہونے والے مقدمات میں ذیادہ تر مقدمات علاج معالجے پر ہونے والے اخراجات (میڈیکل ) کی وصولی سے متعلق ہیں، جن میں انتہائی معمولی رقم کی بدعنوانیاں ہوتی ہیں، تاہم سرکاری ملازمین نیب سے جان چھڑانے کےلئے ریکوری کےلئے آمادہ ہوجاتے ہیں۔

 

انہوں نے مزید بتایا کہ ان مقدمات میں ملوث ایلمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے اہلکاروں کے خلاف ہم نے شوکاز نوٹس تیار کرلئے تھے تاہم 24 اکتوبر 2016 کو نیب مقدمات سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد انہیں شوکاز نوٹس جاری نہیں کئے گئے، سپریم کورٹ کے فیصلہ کے مطابق تمام سرکاری اداروں کو 25 لاکھ روپے سے زائد کی مالی بدعنوانیوں میں ملوث اہلکاروں کے خلاف کاروائی کی ہدایت کی گئی تھی، نیب کے مقدمات میں ہمارا کوئی بھی ملازم 25 لاکھ یا اس سے زائد کی مالی بدعنوانی میں ملوث نہیں اس لئے کسی کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی گئی۔

 

محکمہ تعلیم کے اہلکار محمد نعیم نے بتایا کہ نیب مقدمات میں رقم واپس کرنے کی حامی بھرنے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ مذکورہ ملازم نے اقبال جرم کرلیا ہے، بلکہ عموماً سرکاری ملازمین نیب کی تفتیش سے بچنے اور اپنی بدنامی کے خوف سے چند ہزار روپے دیکر اپنی جان چھڑانے کو ترجیح دیتے ہیں، سرکاری ملازم یہ سمجھتا ہے کہ اگر میں رقم واپس نہیں کرتا تو خود کو بے گناہ ثابت کرنے کےلئے مجھے اس سے کئی گئی ذیادہ رقم عدالتوں میں خرچ کرنا پڑے گی اس لئے بہتر ہے پیسے دے کر جان چھڑا لی جائے۔

 

محکمہ پبلک ہیلتھ کے ایک اور آفیسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ نیب مقدمات کی بناء پر کسی کو مجرم نہیں کہا جاسکتا، نیب کے تفتیشی افسران اپنی کارکردگی دکھانے اور کمیشن بڑھانے کےلئے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہیں اور سرکاری ملازمین پر مختلف طریقوں سے دباو ڈال کرانہیں رضاکارانہ طور پر پیسے واپس کرنے پر مجبور کرتے ہیں، سرکاری ملازمین عدالتوں اور نیب دفاتر کے چکر لگانے سے خود کو بچانے کےلئے پیسے دینے پر راضی ہوجاتے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ نیب ملازمین اپنی کاغذی کاروائی کو پورا کرنے کےلئے چھوٹے ملازمین کو قربانی کا بکرا بناتے ہیں جبکہ بڑے افسران یا شخصیات سے مقدمہ درج ہونے سے پہلے ہی معاملات طے کرکے انہیں کلین چٹ دے دیتے ہیں۔

 

نیب خیبرپختونخوا کی کاروائیوں اور ان کاروائیوں کی بنیاد پر سرکاری ملازمین کی ملازمت پر پیدا ہونے والے اثرات کے حوالے سے نیب ہیڈ کوارٹر اسلام آباد کے ترجمان نوازش علی سے متعدد بار رابطہ کیا گیا لیکن ہر بار انہوں نے اپنی مصروفیت کا عذر پیش کرکے بات کرنے سے معذرت ظاہر کی، نیب کے سابق پبلک ریلیشن آفیسر حافظ عرفان نے اس حوالے سے بتایا کہ میں ذاتی طور یہ سمجھتا ہوں کہ نیب کی تفتیش کے دوران رقم واپس کرنے پر رضامند ہوا اس بات کی عکاسی ہے کہ مذکورہ آفیسر کسی بھی سطح پر بدعنوانی میں ملوث رہا ہے، کرپشن کی رقم تھوڑی یا ذیادہ ہوا الگ معاملہ ہے تاہم رضامندی سے یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ مذکورہ آفیسر اپنے فرائض میں صادق و ایماندار نہیں ہے یا ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ مجرم ہے، جس کی بنیاد پر وہ سرکاری ملازمت کے اہل نہیں رہتا تاہم اس حوالے سے ان سرکاری اداروں کے قوائد و ضوابط کو دیکھنا ضروری ہے۔

 

سابق نیب افسران سے بات چیت سے معلوم ہوا کہ پلی بارگین اسی وقت ممکن ہو سکتا ہے جب نیب کیس کو عدالت تک لے جا چکی ہو لہٰذا ایسے حکومتی عہدیدار جن پر غبن کا الزام ہو وہ جرم ثابت ہونے سے بچنے کیلئے پلی بارگین کا ذریع استعمال کر سکتے ہیں۔ یہاں یہ ذکر کرنا مناسب ہے کہ پلی بارگین یا رضا کارانہ طور پر رقم کی واپسی سے نیب بھی عدالتی اور جرح کے اخراجات سے بچ جاتی ہے۔

 

ڈائریکٹریٹ آف ایلمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے اسسٹنٹ ڈآئریکٹر ایاز خان نے نیب میں ملوث انکے محکمے کے افراد کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ 14 ملین روپے کی مبینہ بدعنوانیوں کے مقدمے ملوث ہیڈ مسٹریس قمر یاسمین ریٹائیر ہوچکی ہیں۔ ایک اور مقدمے میں ملوث روبینہ افضل پر علاج معالجے کے بلوں میں بے ضابطگیوں کے الزامات تھے جس کی بناء پر نیب نے ان سے ریکوری کی تھی، مذکورہ ہیڈمسٹرس گورنمنٹ ہائی سکول نمبر 2 ڈیرہ اسماعیل خان میں خدمات سرانجام دے رہیں ہیں۔ جبکہ اسی نوعیت کے ایک مقدمے میں ملوث ہیڈمسٹرس فہمیدہ نصرین گورنمنٹ پرائمری سکول نمبر 3 ڈیرہ اسماعیل خان میں تعینات ہیں۔ ہمارے ہی محکمے کے دو اور ملازمین راشد مغل اور شاہ نواز سے بھی نیب نے مختلف مقدمات میں وصولی کی تھی اور وہ بھی بدستور محکمے میں خدمات سرانجام دے رہیں، دونوں اہلکار ڈی او آفس ڈیرہ اسماعیل میں تعینات ہیں۔

 

ایاز خان نے بتایا کہ اگر کسی سرکاری ملازم کی رئٹائیرمنٹ کے بعد بھی محکمہ کاروائی میں اس پر مالی بدعنوانیاں ثابت ہوجاتی ہیں تو پھر محکمہ انکے خلاف مقدمہ درج کرنے کےلئے محکمہ اینٹی کرپشن سے درخواست کرتا ہے۔

 

نیب کے ایک اور مقدمے میں ملوث محکمہ تعلیم کے ملازم عبدالرحمن کے حوالے سے ذرائع نے بتایا کہ ان پر قوائد و ضوابط کے خلاف بھرتیوں کا الزام تھا، محکمانہ انکوائری میں بھی الزامات درست ثابت ہونے کے بعد انکی تنزلی کی گئی تھی، عبدالرحمن اب ریٹائیر ہوچکے ہیں اور ممکن ہے کہ نیب نے ان سے ریکوری بھی انہیں الزامات کی بنیاد پر کی ہو۔ ذرائع نے بتایا کہ سلیم محمد و دیگر آڈیٹرز کے خلاف بھی محکمانہ انکوائری مکمل ہوچکی ہے، انکوائری رپورٹ کو مزید کاروائی کےلئے سیکرٹری ایجوکیشن کے پاس بھیجا گیا ہے۔

 

نیب کے مقدمے میں ملوث چترال کے سابق ای ڈی او ہیلتھ شیر قیوم خان کے حوالے سے ذرائع نے بتایا کہ وہ ریٹائیر ہوچکے ہیں جبکہ ان کے ساتھ مقدمے میں نامزد کلرک محمد ایوب بدستور محکمہ صحت میں خدمات سرانجام دے رہا ہے۔ ایک اور مقدمے میں ملوث خیبرمیڈیکل کالج کی سابق پرنسپل ڈاکٹر نرگس پروین، سابق پرنسپل کے ایم سی فقیر محمد، عمیر علی اور پروفیسر جمیل الرحمن کے حوالے سے ذرائع نے بتایا کہ یہ تمام افسران بھی ریٹائیر ہوچکے ہیں اور انکے خلاف کسی قسم کی کاروائی نہیں کی گئی تھی تاہم نیب مقدمات کے حوالے سے سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد چیف سیکرٹری نے ان افراد سے متعلق تفصیلات طلب کی تھیں اور انکے خلاف محکمانہ انکوائری کا آغاز کردیا گیا ہے۔

 

اداروں کے پاس ریکارڈ رکھنے کا منظم طریقہ کار نہ ہونے کے باعث ملازمین کو نیب مقدمات میں ملوث افراد کی تصدیق یا تردید کرنے کے حوالے سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، اداروں کے ملازمین کا کہنا تھا کہ نیب تحقیقات، تفتیش یا کاروائی کرنے  سے قبل ہمیں آگاہ نہیں کرتا اور نہ ہی مقدمہ مکمل ہونے کے بعد ہمیں اس سے متعلق فراہم کرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ نیب کے مقدمات اور ان میں ملوث افراد کے حوالے سے افسران لاعلم دیکھائی دیتے ہیں۔ محکمہ تعلیم کے ملازمین نے اپنے ادارے سے متعلق نیب کے مقدمات میں ملوث افراد کی فہرست ہم سے حاصل کی۔

 

اگلا حصہ (نیب کی اصطلاحات) پڑھنے کیلئے دوبارہ اوپر جایئے۔

 

No comments

leave a comment