Infographics
Videos
June 20, 2018
MULTIMEDIA

الیکشن ٹریبونلز: بلدیاتی انتخابات کے ایک ہزار سے زائد کیس التوا کا شکار

اسلام آباد۔۔۔ بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کو دو سال کا عرصہ بیت جانے کے باوجود الیکشن  ٹریبونلز کے پاس اب بھی ایک ہزار سے زائد کیس التوا کا شکار ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بلدیاتی انتخابات کے 1017 کیسز میں الیکشن ٹریبونلز نے حتمی فیصلوں کا اعلان نہیں کیا۔

ذرائع کے مطابق الیکشن ٹریبونلز کے پاس سب سے ذیادہ 453 کیسز پنجاب میں زیر التوا پڑے ہوئے ہیں۔

الیکشن ٹریبونلز کے پاس خیبرپختونخوا میں 395 کیس زیر التوا ہیں۔ سندھ میں 146 ، بلوچستان میں 22 کیس اور وفاقی دارالحکومت میں ایک کیس التوا کا شکار ہے۔

الیکشن ٹریبونلز کو قانون کے مطابق 4 ماہ کے اندر کیس کا فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ ان الیکشن ٹریبونلز کی تقرری الیکشن کمیشن آف پاکستان خود عمل میں لاتا ہے۔ الیکشن ٹریبونلز کے ججز کو بائسویں گریڈ  کےآفیسر کی مراعات حاصل ہیں۔

الیکشن ٹریبونلز میں بلدیاتی انتخابات کے نتائج کی بنیاد پہ پیدا ہونے والے تنازعات کے کیس درج کرائے جا سکتے ہیں۔ کیس درج کرنے کیلئے درخواست گزار کو پہلے کمیشن میں پیٹیشن دائر کرنی پڑتی تھی مگرحالیہ الیکشن ایکٹ کی منظوری کے بعد امیدوار براہ راست ٹریبونلز سے رجوع  کرسکتے ہیں۔

الیکشن کمیشن کے ڈائریکٹرجنرل پبلک ریلیشنز ہارون خان نے کہا کہ ٹریبونلزخود مختار ہیں۔ کمیشن صرف ٹریبونلز تک کیس ریفرکرسکتا ہے لیکن ٹریبونلزکو فیصلے پرمجبور نہیں کرسکتا۔ اسکے برعکس ماضی میں شائع ہونے والی خبروں کے مطابق کمیشن غیر فعال ٹریبونلز کے ججوں کو تیس دن کے نوٹس کے ساتھ نوکری سے نکال سکتا ہے۔

ہارون خان نے کہا کہ ٹریبونلزمکمل ناکامی کا شکار نہیں ہیں۔ ان کے مطابق ٹریبونلز نے مجموعی طور پر پاکستان بھرسے بلدیاتی انتخابات کے دو تہائی کیس کامیابی سے نمٹانے ہیں۔

———————————–

شاکرعباسی اسلام آباد میں کیپٹل ٹی وی کے نمائندہ برائے الیکشن کمیشن ہیں۔ شاکر نے اکتوبر میں میڈیا میٹرز فار ڈیموکریسی کی ڈیٹا جرنلزم ٹریننگ میں حصّہ لیا تھا اور اب ڈیٹا جرنلزم کے اصولوں کو اپنے صحافتی کام میں استعمال کر رہے ہیں۔ اس خبر کیلئے میڈیا میٹرزفار ڈیموکریسی کے حسن عبّاس نے اضافی رپورٹنگ فراہم کی اور وقاص نعیم نے ڈیٹا پیشکش میں مدد کی۔

Tags

No comments

leave a comment