Infographics
Videos
December 17, 2018
MULTIMEDIA

Paul Bradshaw’s Tips for Pakistani Data Journalists

(The English version of this post appears below the Urdu text.)

دسمبر 2017 میں میڈیا میٹرز فار ڈیموکریسی  نے ایک ڈیٹا اور تحقیقاتی رپورٹنگ بوٹ کیمپ کا انعقاد کرایا تھا۔ اس بوٹ کیمپ کے شرکا کی راہنمائی کیلئے ہم  نے چند قومی اور بین الاقوامی صحافیوں کے انٹرویو کیے تاکہ وہ ہمارے بوٹ کیمپ کے شرکا کے ساتھ   مفید مشورے شیئر کر سکیں۔ مشور برٹش ڈیجیٹل صحافی پال بریڈشا، جو کئی کتابوں کے مصنف ہیں اور برمنگھم سٹی یونیورسٹی میں ڈیٹا صحافت کا ماسٹرز پروگرام چلاتے ہیں،  نے بھی ہمارے سوالات کے جوابات دیے۔ ان جوابات میں نئےڈیٹا صحافیوں کیلئے بہت اہم سبق ہیں لہٰذا ہم نے سوال و جواب کا اردو ترجمہ یہاں آپ کے ساتھ شیئر کیا ہے۔  ملاحظہ فرمائیے۔

س۔ آپ صحافیوں کو ، خاص کر وہ ساتھی جو ایسے ممالک میں کام کر رہے ہیں جہاں ڈیٹا کا حصول ایک مشکل مرحلہ ہے، ڈیٹا جرنلزم کی اہمیت کا یقین دلانے کیلئے کیا کہیں گے؟

پال :اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ صحافت کی یہ ڈیوٹی ہے کہ وہ حقائق پہ مبنی ہو، درست ہو، اور اپنے دیکھنے اور پڑھنے والوں کو ایسے موضوعات میں مگن کرے جن کی واضح پبلک اہمیت ہو تو پھر ڈیٹا جرنلزم آپ کے کام کیلئے بہت اہم ہے۔

اول تو یہ اسلئے اہم ہے کہ یہ آپ کو ایسی مہارت دیتا ہے جس سے آپ پراعتمادی سے یہ چیک کر سکتے ہیں کہ کیا کسی دعوی کی بنیاد حقائق میں ہے کہ نہیں اور دوسرا آپ جس معلومات کی مدد سے یہ چیک کرینگے وہ آپ کی سورس یا ذرائع کا کردار نبھائے گی۔

  لیکن تیسرے نمبر پہ ڈیٹا جرنلزم آپ کے ناظرین و قارئین کی توجہ حاصل کرنے کیلئے نت نئےطریقے مثلا انٹراکٹویٹی، وژوالائیزیشن، اور پرسنلائزیشن کیلئے ہر قسم کے امکانات کھول دیتا ہے جو ڈیٹا کے بغیر ممکن نہیں۔

س۔ جو صحافی ڈیٹا جرنلزم کے ساتھ کام شروع کرنا چاہتے ہیں انہیں آپ کیا تین مشورے دینگے؟

پال: نمبر ایک ۔ اپنی شروعات اس سے مت کیجئے کہ آپ کوئی تکنیک صرف اسلئے سیکھ  رہے ہیں کہ آپ کو وہ تکنیک آ جائے۔ اس طرح تو  101چیزیں ہیں جو آپ سیکھ سکتے ہیں۔ اسکے بجائےکوئی ایسا صحافتی مسئلہ پکڑیے جو آپ کو اکثر در پیش ہوتا ہے یا کوئی خبر کا آئیڈیا جو آپ کے ذہن میں ہو اور اسکی مدد سے یہ تہہ کیجئے کہ آپ کو کس قسم کی ڈیٹا جرنلزم مہارت پہلے حاصل کرنی ہے۔

دوسرا مشورہ۔ آسان چیزوں سے آغاز کیجئے۔ یہ سیکھنا کہ کن چیزوں میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا ہے یا کمی آئی ہے بہت سادہ ہے لیکن بہت کار آمد بھی ۔ یا یہ حساب لگانا کہ فیصدی فرق کتنا ہے ۔ یا پیوٹ ٹیبلز کی مدد سے باریک ڈیٹا کو ٹوٹل میں تبدیل کرنا ۔ میں نے ان صلاحیتوں کا اپنی تعارفی کتاب ڈیٹا جرنلزم ہایسٹ میں تذکرہ کیا ہے ک کیونکہ ان سے شروعات کرنا آسان ہے اور نصف سے زیادہ ڈیٹا خبروں میں ان کا استعمال ہوتا ہے۔ اور یہ ثابت کرنے کی کوشش نہ کریں کہ ایک چیز کی وجہ سے دوسری چیز رونما ہو رہی ہے، ایسا ثابت کرنا انتہائی مشکل ہے اور اس میں آسانی سے غلطی ہو سکتی ہے۔

تیسرا مشورہ۔ یاد رکھئے کہ سٹوری ابھی بھی لوگوں کہ بارے میں ہے ۔ بعض اوقات ڈیٹا جرنلزم کا حصّہ صرف دس منٹ لیتا ہے اور باقی کا وقت واقعات اور ماہرین ڈھونڈنے میں لگتا ہے۔ جان رکھیے کہ کس وقت آپ کو نمبرز چھوڑ کر فون اٹھانا ہے۔ ایک اچھا چارٹ مددگار ہوتا ہے لیکن ایک متاثرہ فرد کی فوٹو یا ویڈیو بھی اتنی ہی قیمتی ہے۔

س۔ وہ کونسی تین ٹیکنیکل صلاحیتیں ہیں جو آپ کے خیال میں ہر نئے ڈیٹا صحافی کو سیکھنی چاہییں؟

 پال: نمبر ایک: سپریڈ شیٹ سکلز بنیادی اہمیت کی حامل ہیں۔ خواہ یہ ایکسل، گوگل شیٹس، یا کچھ اور ہو۔ ان سے شروع کیجئے اور سورٹنگ فلٹرنگ اور پوٹ ٹیبل سیکھئے

 نمبر دو: ڈیٹا وژوالائیزیشن سکلز فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہیں ہمیشہ ڈیٹا کی پیشکش کیلئے نہیں، ان کی مدد سے آپ ایسے ٹرینڈ دیکھ سکتے ہیں جو سپریڈ شیٹ میں نمایاں نہ ہوں اور یہ آپ اپنے ساتھیوں کو اختصار کے ساتھ دکھا سکتے ہیں ۔ پیچیدہ ٹولز سے اجتناب کریں۔ ڈیٹا رپر اور انفوگرام جیسی سروس آساں ہیں اور ڈیڈ لائن پہ کام اتی ہیں۔

نمبر تین: تیسری سکل کمپیوٹیشنل سوچ ہے، یہ ایک مسئلہ کو حصوں میں توڑنے کی صلاحیت ہے جس کے بعد ہر حصّہ کو منطقی طور پر حل کیا جا سکتا ہے۔ اس سے آپ تیزی سے کام کر سکتے ہیں اور بطور ڈیٹا صحافی بہت سی نئی سکلز سیکھ سکتے ہیں۔

س۔ ایسے صحافی جو یہ سمجھتے ہیں کہ ڈیٹا جرنلزم صرف کمپیوٹر سائنس کے لوگوں کیلئے ہے یا جنہیں اعداد و شمار سے ڈر لگتا ہے انکے لیے آپ کا کیا پیغام ہے؟

پال: پہلے تو زیادہ تر ڈیٹا جرنلزم میں کوڈنگ استعمال نہیں ہوتی۔

میں یہ بھی کہونگا کہ ڈر لگنا کب ایک اچھا بہانہ رہا ہے صحافیوں کیلئے اپنی نوکری نہ کرنے کیلئے۔

کیا آپ طاقتور سیاستدانوں کے انٹرویو نہیں کرتے کیونکہ آپ کو ان سے ڈر لگتا ہے؟

کیا آپ حادثہ کی جگہ پر بھاگ کر نہیں پہنچتے کیونکہ آپ کو برفیلی سڑکوں سے خوف آتا ہے؟

مجھے سمجھ نہیں آتی کہ صحافی ان بہانوں کو تو کبھی نہیں مانیں گے لیکن سب سے کمزور بہانہ – ہمیں ریاضی پسند نہیں ہے؟ – کی وجہ سے صحافت کے سب سے بنیادی وعدے سے پیچھے ہٹ جایئں گے اور وہ وعدہ یہ ہے کہ ہم سچ تک پہنچیں گے اور ہم درست خبر دینگے۔

ریاضی کے خوف پر قابو پائیے، خدا کے واسطے آپ صحافی ہیں۔

س۔ آپ مزید کچھ اضافہ کرنا چاہیں گے

پال: یہ نہایت آسان ہے کہ آپ اپنے ارد گرد نگاہ دوڑائیں اور یہ سوچیں کہ لوگ تو آپ سے کہیں آگے ہیں اور سیکھنے کو بہت کچھ ہے ۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہمیشہ کوئی نہ کوئی شخص ایسا ہوگا جس کے پاس ایسا ہنر ہوگا جو آپ کے پاس نہیں اور ہمیشہ کوئی ایسا ہنر ہوگا جسے سیکھنے کا آپ کو وقت نہیں ملا۔

اس پر مت فوکس کیجئے کہ آپ کے پاس کیا نہیں ہے بلکہ اس پہ فوکس کیجئے کہ آپ کیا کر سکتے ہیں اور وہاں سے آغاز کیجئے۔ دوسرے لوگ بھی آپ کی صلاحیات کو دیکھ رہے ہونگے اور فکر کر رہے ہونگے کہ وہ انکے پاس نہیں۔

جدید صحافت کے بارے میں حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس قدر نئی چیزیں ہیں آزمانے کیلئے اور اس قدر علم آپکی انگلیوں تلے ہے لیکن اس سے آپ کو یہ بھی احساس ہو سکتا ہے کہ شاید بہت زیادہ کام ہے۔

لہٰذا صرف ایک ایسی چیز سیکھیں جو آپ کرنا چاہتے ہیں اور پھر ایک اور، اور وہاں سے آگے بڑھیں۔

******

For Media for Transparency’s Data and Investigative Reporting Boot Camp, we reached out to several national and international data journalists and investigative reporters to see if we could interview them about their work. The idea was to screen these video interviews at the boot camp to share sage advice from experts of the craft with the boot camp participants and to drive discussions during our sessions.

One of the people I contacted was Paul Bradshaw, a renowned British digital journalist who also leads the data journalism master’s degree programme at Birmingham City University. Bradshaw’s blog Online Journalism and his several books (The Online Journalism Handbook, Finding Stories with Spreadsheets) are great resources for digital and data journalism.

While we weren’t lucky enough to score a video interview with Bradshaw due to his busy schedule, he was kind enough to send us a written response to our interview questions. We read out Bradshaw’s responses to the boot camp participants at the start of our sessions on data analysis. Some of Bradshaw’s points that resonated with the participants and were well-received included:

On top tips for data journalists: “Don’t start by learning a technique for the sake of it – there are 101 different things you could learn – instead pick a problem that you face regularly, or a story idea that you have, and let that dictate the sorts of data journalism skills that you learn first.”

On technical skills: “Spreadsheet skills – whether that’s Excel, Google Sheets or something else – are fundamental. So start with those – and learn about sorting, filters, and pivot tables if you can.”

Advice for beginners in data journalism: “It’s easy to look around you and think that other people are so far ahead of you, and there is so much to learn. But in reality it’s just the case that there will *always* be someone who has a skill that you don’t, and there will *always* be a skill that you haven’t had time to learn. Don’t focus on what you haven’t got – instead focus on what you can do, and build from there…. The wonderful thing about modern journalism is that there’s so many new things to try, and so much knowledge at our fingertips to learn them, but that can also make you feel like there are *too* many things to try! So just learn one thing you want to, and then the next thing and go from there.

We thank Paul Bradshaw for these excellent suggestions and tips. He has also published the entire Q&A on his Online Journalism blog. We also highly recommend that you subscribe to email updates from the Online Journalism blog as it is a treasure trove of online resources and current best practices of data journalism and digital news reporting.

 

No comments

leave a comment